کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چھٹہ نے عام انتخابات میں دھاندلی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں میں سکون کی موت مروں میں اس طرح کی زندگی نہیں جینا چاہتا جو میرے ساتھ ہوا ہے اور اس ڈویژن کے 13 ایم این ایز جو 70، 70 ہزار کی لیڈ سے ہارے ہوئے تھے ان پر جعلی مہریں لگا کر اتنابڑا کھلواڑ ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ (ہم) وہی 71(19) کی طرف جا رہے ہیں یہ ملک کہیں سے کہیں جا رہا ہے اور ہم یہاں بیٹھے کیسے کر سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ (سب) مجھے زیب نہیں دیتا تھا اس لیے میں نے اپنے عہدے سے اپنی سروس سے سب چیزوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔‘

کمشنر نے کہا کہ ’اور جو میں نے اتنا بڑا جرم کیا ہے۔ میں اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرتا ہوں۔ مجھے اس کی بھرپور طریقے سے سزا دینی چاہیے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’غلط کام کون کر رہا ہے کون کروا رہا ہے یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہوئی ہے۔‘

ان کے مطابق ’میرے اوپر سوشل میڈیا اور اوورسیز پاکستانیوں کا بہت دباؤ تھا۔‘

کمشنر راولپنڈی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں راولپنڈی ڈویژن میں انتخابی دھاندلی کی ذمہ داری قبول کرتاہوں ، میں انتخابی دھاندلی پر اپنےآپ کو پولیس کے حوالے کر تاہوں، میں نے راولپنڈی ڈویژن میں ناانصافی کی ہے ، ہم نے ہارے ہوئے امیدواروں کو 50 ، 50 ہزار کی لیڈمیں تبدیل کر دیا۔ کمشنر راولپنڈی کا کہناتھا کہ جتنے بھی انتظامی ادارے ہیں جس میں پولیس اور الیکشن کمیشن کا عملہ ہے وہ بھی اس دھاندلی میں ملوث ہیں ، ہم نے انتخابی نتائج تبدیل کیئے ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے 14 حلقوں میں دھاندلی کی گئی، میں پوری طرح ملوث ہوں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہاہوں ۔

 علی چٹھہ کا ویڈیو بیان میں کہناتھا کہ بہت زیادہ پریشر تھا، میں نے آج صبح فجر کی نماز کے بعد خود کشی کرنے کی بھی کوشش کی لیکن پھر میں نے سوچا کہ کیوں نہ عوام کے سامنے یہ ساری چیزیں رکھوں ، میں خود حرام کی موت کیوں مروں ، میں اس قرب سے گزر رہاہوں ، بیوروکریسی سے گزارش ہے کہ سیاسی لوگوں کیلئے کوئی غلط کا م نہ کریں۔ 

  اپنے اعتراف میں علی چٹھہ کا کہناتھا کہ میں راولپنڈی ڈویژن میں انتخابی دھاندلی کی ذمہ داری قبول کرتاہوں ، میں انتخابی دھاندلی پر اپنےآپ کو پولیس کے حوالے کر تاکے حوالے کرتاہوں، میں نے راولپنڈی ڈویژن میں ناانصافی کی ہے ، ہم نے ہارے ہوئے امیدواروں کو 50 ، 50 ہزار کی لیڈمیں تبدیل کر دیا۔ کمشنر راولپنڈی کا کہناتھا کہ جتنے بھی اتنظامی ادارے ہیں جس میں پولیس اور الیکشن کمیشن کا عملہ ہے وہ بھی اس دھاندلی میں ملوث ہیں ، ہم نے انتخابی نتائج تبدیل کیئے ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے 14 حلقوں میں دھاندلی کی گئی، میں پوری طرح ملوث ہوں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہاہوں ۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *