پاکستان کے 33 ویں وزیرِاعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس اتوار کو صبح 11 بجے شروع ہوگا۔

وزارتِ اعظمیٰ کے انتخاب کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے شہباز شریف کو بطور امیدوار نامزد کیا ہے جنھیں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور دیگر جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ سُنّی اتحاد کونسل کے اراکین نے وزارتِ اعظمیٰ کے لیے عمر ایوب خان کو بطور امیدوار نامزد کر رکھا ہے۔

وزیرِاعظم بننے کے لیے کسی بھی امیدوار کو قومی اسمبلی میں کم سے کم 169 اراکین کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔

پاکستان کے آئین کے مطابق صرف مسلمان اراکینِ اسمبلی ہی ملک کے وزیرِاعظم بننے کے اہل ہیں۔

وزیرِ اعظم کا انتخاب کیسے ہوگا؟

ووٹنگ شروع ہونے سے قبل سپیکر کی جانب سے وزارتِ اعظمیٰ کے امیدواروں کے نام پڑھ کر سُنائے جائیں گے۔

اگر قائد ایوان یعنی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے ایک سے زیادہ امیدوار ہیں تو پھر تقسیم ہو گی اور ارکان قومی اسمبلی سے کہا جائے گا کہ فلاں امیدوار کے حمایتی دائیں جانب والی لابی میں چلے جائیں اور فلاں امیدوار کے حامی بائیں جانب والی لابی میں چلے جائیں۔

گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر کامیاب ہونے والے قائد ایوان کے نام کا اعلان کریں گے۔

اگر دونوں امیدوار کم سے کم 169 اراکین کے ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو قومی اسمبلی میں دوبارہ ووٹنگ کروائی جائے گی اور وہ امیدوار جس نے ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہوں اور وہ ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں بھی اکثریتی ووٹ حاصل کرلے اسے پاکستان کا وزیرِاعظم منتخب کر لیا جائے گا۔

وزیرِاعظم کے انتخاب کے حوالے سے قومی اسمبلی کے سپیکر صدر کو تحریری طور پر مطلع کریں گے جس کے بعد ان کے سیکریٹری کی جانب سے وزیرِاعظم کے منتخب ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *