سابق صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتیں عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کریں۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ ملک کو جوڑنے کے لیے سیاسی مینڈیٹ کو تسلیم کیا جائے، ملک میں عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے اور جس کا جو مینڈیٹ ہے اسے دیا جائے، ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے ملک کو جوڑنا ضروری ہے اوراس کا آغاز مینڈیٹ تسلیم کرنے سے ہوگا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق صدر عارف علوی نے کہا کہ انھیں بھی سائفر بھیجا گیا تھا اور انھوں نے اسے دیکھا بھی۔ انھوں نے کہا کہ میرا حلف کہتا ہے کوئی راز پتا چلے تو وزیر اعظم کی اجازت کے بغیر نہ بتاؤں، وزیر اعظم حلف اٹھاتا ہے کہ اسے اگر پتا چلے کوئی راز عوامی مفاد میں ہے تو وہ اسے سامنے لائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اکثریتی فیصلوں میں عدالت نے آرٹیکل 6 کا ذکر نہیں کیا، میرے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلانا ہے تو چلائیں اور غیر آئینی اقدامات کا الزام لگانے والے عدالتوں میں جائیں۔

ان کے مطابق دنیا میں بانی تحریک انصاف عمران خان جیسا کوئی لیڈر نہیں۔ عارف علوی نے کہا کہ حلفاً کہتا ہوں جب بھی بانی پی ٹی آئی سے بات ہوئی انھوں نے کہا میری کوئی ترجیح نہیں۔ عارف علوی نے کہا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ سے متعلق ریفرنس نہیں بھیجنا چاہیے تھا، یہ بانی پی ٹی آئی کا بھی خیال تھا۔

عارف علوی کا کہنا تھا کہ اپنے وکلا کو کہا ہے کہ وہ عدالت میں درخواست جمع کرائیں، بانی پی ٹی ائی سے ملاقات کرنی ہے۔ بانی تحریک انصاف میرے لیڈر تھے ہیں اور رہیں گے، میں نے اتنا دیانتدار اور ایماندار آدمی نہیں دیکھا، جو قوم کو اکٹھا کرلے ایسی کوالٹی کسی میں نہیں۔

عارف علوی کے مطابق انھوں نے منع کیا تھا اسمبلی سے نہ جائیں اور خیبرپختونخوا اسمبلی نہ توڑیں۔

عارف علوی نے کہا کہ ’میں احتساب، جمہوری اقدار اور پارٹی کے اصول پر قائم رہا، پارٹی کا اصول تھا کرپشن کے خلاف رہوں، میں کرپشن کےخلاف رہا، میں نے آئین کی پاسداری کی جو مناسب تھا وہ کیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات ہونا چاہیے، ملک کے استحکام اور معیشت کے لیے ضروری ہے ایک دوسرے کو جوڑا جائے، پاکستان کوجوڑنے کے لیے سیاسی لوگ اور اسٹیبلشمنٹ کردار ادا کرے

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *