وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو داسو میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی کارکنوں سے ملاقات کی اور ایک تقریب سے خطاب میں چھ چینی انجنیئرز پر حملے کو بزدلانہ قدم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس حملے کا مقصد پاکستان اور چین کی بے مثال دوستی کو نقصان پہنچانا تھا اور یقیناً یہ پاکستان کے دشمنوں کا کام ہے۔

’وہ شر پسند جو پاکستان اور چین کی مضبوط، دن بدن پھیلتی اور تیزی سے آگے بڑھتی دوستی کے دشمن ہیں اور اسے نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔‘

وزیر اعظم پاکستان نے چینی کارکنوں کر مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’میں آپ کے چہروں پر غم اور افسوس کے تاثرات دیکھ سکتا ہوں۔ لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت پاکستان آپ کو اور آپ کے خاندانوں کو بہترین سکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گی۔‘

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں اور پاکستان کی وفاقی حکومت سمجھتے ہیں کہ آپ سب لوگ یہاں ایک خوشحال پاکستان کی خاطر آئے ہوئے ہیں۔ آپ کی سکیورٹی ہماری سکیورٹی ہے۔ ہم بہتر انتظامات کریں گے، فول پروف انتظامات ہوں گے۔‘

انہوں نے یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان اور چین مل کر ملزموں کو گرفتار کریں گے اور ’انہیں مثالی سزا دی جائے گی تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی حرکت کا سوچ بھی نہ سکے۔‘

26 مارچ 2024 کو ضلع شانگلہ کے علاقے بشام میں چینی باشندوں کی ایک گاڑی پر خودکش حملے میں پانچ چینی شہریوں سمیت چھ افراد کی جان گئی تھی۔ مارے جانے والے چینی شہری داسو ڈیم منصوبے سے وابستہ تھے۔

اس سے قبل وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف چینی باشندوں پر بشام کے مقام پر ہونے والے حالیہ ’دہشت گرد حملے‘ کے تناطر میں داسو ڈیم منصوبے میں کام کرنے والی چینی کمپنی کے انجینئرز سے پیر کو ملاقات کریں گے۔ ’وزیر اعظم چینی انجینئرز اور ورکرز سے اظہار تعزیت و یکجہتی کریں گے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ بشام میں دہشت گردی کے واقعے بعد وزیراعظم نے چینی باشندوں کی سکیورٹی کو مزید بہتر بنانے کے لیے فوری اور واضح اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔

ادھر شانگلہ میں ایک خودکش حملے میں مارے گئے پانچ چینی شہریوں کی میتیں پیر کو بیجنگ روانہ کر دی گئیں۔

سرکاری میڈیا ’ریڈیو پاکستان‘ کے مطابق راولپنڈی میں نور خان ایئربیس پر ایک خصوصی تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا اور مارے گئے چینی شہریوں کے احترام میں 30 سیکنڈ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین بھی چینی شہریوں کی میتیوں کے ہمراہ روانہ ہوئے۔

ریڈیو پاکستان کے پاکستان کی طرف سے ایک بار پھر چینی باشندوں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ’دہشت گردوں‘ اور ان کے سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ہی چین کی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی پاکستان پہنچی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف داسو ہائیڈل پاور منصوبے پر کام کرنے والے پانچ چینی شہریوں کی دہشت گرد حملے میں اموات پہلے ہی مشترکہ تحقیقات کی ہدایت کر چکے ہیں۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *