ذیابیطس کی دوا lixisenatide پارکنسنز (رعشہ) کی بیماری کو روکنے میں بہت مفید ثابت ہوئی ہے، ماہرین کے مطابق ذیابیطس کی یہ دوا رعشہ کی بیماری کو بڑھنے سے روکتی ہے، اور ماہرین نے اس نئے تجربے کو رعشہ کی بیماری کی روک تھام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

فرانسیسی محققین کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذیابیطس کی دوا lixisenatide دماغی تنزلی کی علامات کے بڑھنے کو سست کرسکتی ہے۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں رعشہ کی بیماری میں مبتلا ان 156 افراد کو تحقیقات کے لیے منتخب کیا گیا جو رعشہ کی دوائیں لے رہے تھے۔ ان سے آدھے افراد کو GLP-1 دوا اور باقی نصف کو پلیسبو ایک سال کے لیے دی گئی۔

ایک سال کے بعد جن لوگوں کو ذیابیطس کی دوا نہیں ملی ان کی علامات میں تنزلی کی بیماری کی شدت کے پیمانے پر 3 پوائنٹس کی کمی ہوئی، جب کہ دوسرے گروپ میں علامات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ تاہم، محققین نے lixisenatide کے ضمنی اثرات کو بھی نوٹ کیا۔ یہ دوا لینے والے تقریباً 46 فیصد لوگوں کو متلی کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ تقریباً 13 فیصد میں الٹی کی علامات تھیں۔

’پارکنسنز یعنی رعشہ مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے اور بتانے والی علامات میں ایک ہاتھ میں تھرتھراہٹ، سست حرکت، جسم کے حصوں میں سختی اور توازن اور ہم آہنگی کے مسائل شامل ہیں۔ زیادہ متاثرہ افراد کی ٹانگیں اس حد تک اکڑ سکتی ہیں کہ وہیل چیئر کے استعمال کی ضرورت پڑنے پر کھڑے ہونے کے دوران چلنا اور توازن برقرار رکھنا ناممکن ہو جاتا ہے‘۔

محقیقن کے مطابق 30 سالوں سے یہ سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ رعشہ کی بیماری سے منسلک کمی کو کیسے کم کیا جائے۔ اس تناظر میں، لکسیپارک فیز 2 ٹرائل کے مثبت نتائج ایک سال کے دوران بیماری کی علامات کو کم کرنے اور بیماری کے مستقبل کے انتظام میں ایک اہم قدم ہے۔

دوسری جانب الاباما یونیورسٹی برمنگھم کے نیورولوجسٹ ڈیوڈ اسٹینڈرٹ جو اس تحقیق میں شامل نہیں ہوئے انہوں نے کہا کہ درجہ بندی کے اسکور میں 3 پوائنٹس کا فرق ایک چھوٹی سی تبدیلی ہے، 5 سال میں کیا ہوتا ہے؟ کیا یہ 15 پوائنٹس تک لے جائے گی یا اس وقت بھی 3 ہی پوائنٹس رہیں گے، اور اگر اس وقت بھی 3 ہی رہے تو یہ دوا بیماری کے علاج کے قابل نہیں ہوگی

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *