امریکی ایوان نمائندگان نے یوکرین کے لیے اربوں ڈالر کی نئی فوجی امداد کی منظوری دے دی ہے تاکہ وہ روس کے حملے کا مقابلہ کر سکے۔

اس اقدام کی کانگریس میں شدید مخالفت کی گئی تھی اور 61 ارب ڈالر کے پیکج کو حاصل کرنے کے لیے دو طرفہ معاہدے کی ضرورت تھی۔

رپبلکنز کا کہنا ہے کہ امداد کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ ہتھیاروں اور گولہ بارود کی رسد حاصل کرنے کے لیے استعمال ہو گا۔

یوکرین کے لیے اس پیکج کے لیے چھ ماہ کا انتظار نہ صرف مایوس کن رہا بلکہ اس کی اسے قیمت بھی چکانی پڑی۔ اسلحے کی کم مقدار کے باعث یوکرین کو جانوں کے ضیاں کے علاوہ روسی پیش قدمی روکنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایسی صورتحال میں کیئو کے لیے یہ ایک بڑا سہارا ثابت ہو سکتا ہے اور امریکی اسلحے کے باعث یوکرینی افواج کو جوابی حملے کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ لیکن یہ اسے موجودہ مشکلات سے نکالنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی حمایت کو ’اہم‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ کو پھیلنے سے روکے گا اور ہزاروں زندگیاں بچائے گا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ یہ امداد کب پہنچے گی لیکن اطلاعات کے مطابق یہ چند دنوں میں پہنچ سکتی ہے۔

یہ پیکج اب سینیٹ میں جائے گا جہاں توقع ہے کہ اسے منظور کر لیا جائے گا جس کے بعد صدر جو بائیڈن کی جانب سے اس پر دستخط کیے جائیں گے۔

ہتھیاروں اور گولہ بارود کے حصول کے ساتھ ساتھ یوکرین کو ’قابل معافی قرضوں‘ کی شکل میں نو ارب ڈالر سے زیادہ کی اقتصادی امداد بھی ملے گی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد سے دونوں اطراف سے ہزاروں افراد، جن میں زیادہ تر فوجی شامل ہیں، ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں اور لاکھوں یوکرینیوں کو اپنے گھروں سے بھاگنا پڑا ہے۔

یوکرین، جو مغربی ہتھیاروں پر انحصار کرتا ہے، اسے امداد کی اشد ضرورت ہے کیونکہ وہ روسی حملہ آور فوجیوں کو روکنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے جو حالیہ ہفتوں میں مسلسل پیش قدمی کر رہے ہیں۔

یوکرین کے فوجیوں کے پاس گولہ بارود کی کمی ہے اور انھیں 1200 کلومیٹر سے زیادہ طویل فرنٹ لائن پر توپ خانے کے گولوں کی رسد کی ضرورت ہے۔

گذشتہ ہفتے یوکرین کی فوج کے سربراہ نے خبردار کیا تھا کہ روس کی جانب سے بکتر بند حملوں میں اضافے کی وجہ سے ملک کے مشرقی حصے میں میدان جنگ کی صورت حال نمایاں طور پر خراب ہو گئی ہے۔

یہ قرارداد 112 کے مقابلے میں 311 ووٹوں سے منظور ہوئی اور کچھ نمائندگان نے یوکرین کے جھنڈے لہرائے۔

نتائج کا خیر مقدم کرتے ہوئے بائیڈن نے ’تاریخی پکار کا جواب دینے‘ کے لیے دو طرفہ کوششوں کی تعریف کی اور سینیٹ پر زور دیا کہ وہ اس کی جلد منظوری دے تاکہ ’میں اس پر دستخط کر سکوں اور ہم یوکرین کو جنگ کے میدان کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فوری طور پر ہتھیار اور ساز و سامان بھیج سکیں

سنیچر کے روز منظور کردہ غیر ملکی امدادی پیکج میں یہ بھی شامل ہے: اسرائیل کے لیے 26.4 ارب ڈالر کی فوجی امداد، جس میں سے 9.1 ارب ڈالر غزہ کے لیے انسانی امداد کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

تائیوان سمیت ایشیا بحرالکاہل میں اتحادیوں کے لیے 8.1 ارب ڈالر کی فنڈنگ کی جائے گی تاکہ ’کمیونسٹ چین کا مقابلہ‘ کیا جا سکے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینزاسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ امداد میں نمایاں اضافہ یورپی اتحادیوں کی جانب سے یوکرین کو فراہم کی جانے والی اربوں ڈالر کی امداد میں اضافہ کرے گا۔

یورپی یونین کے سربراہان ارسلا وان ڈیر لیئن اور چارلس مشیل نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یوکرین روس کے خلاف ہر ممکن حمایت کا مستحق ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ یہ پیکج ’امریکہ کو امیر بنائے گا، یوکرین کو مزید تباہ کرے گا اور اس کے نتیجے میں مزید یوکرینی شہری ہلاک ہوں گے۔‘

بی بی سی ورلڈ سروس کے نیوز آور پروگرام میں بات کرتے ہوئے یوکرین کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ الیگزینڈر میرزکو نے ووٹنگ کو ’تاریخی فیصلہ‘ قرار دیا جس سے ’یقینی طور پر ہمارے شہریوں اور ہمارے فوجیوں کی بہت سی زندگیاں بچائی جا سکیں گی۔‘

انھوں نے کہا، ’اس سے ہمیں طاقت ملتی ہے، یہ ہمیں لڑنے کا حوصلہ اور عزم دیتا ہے، اور مجھے یقین ہے کہ محاذ پر صورتحال جلد ہی ہمارے حق میں بدل جائے گی۔‘

زیلنسکی اور سی آئی اے کے سربراہ ولیم برنز دونوں نے کہا ہے کہ یوکرین امریکی مدد کے بغیر جنگ ہار جائے گا۔

گذشتہ چھ ماہ کے دوران روس کی جانب سے مزید علاقے حاصل کرنے اور واشنگٹن کی جانب سے چھوڑے گئے خلا کو دیگر مغربی اتحادیوں کی جانب سے پر کرنے کی جدوجہد سے اس بات کو مزید تقویت ملی ہے۔

یوکرین اب ایک بار پھر امریکی حمایت کی طاقت محسوس کر رہا ہے۔

سنیچر کے روز یہ بل آسانی سے منظور کیا گیا تھا لیکن ان اعداد و شمار کے پس منظر میں اس معاملے پر بڑھتی ہوئی تقسیم بھی ہے۔ تمام 210 ڈیموکریٹس نے بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ رپبلکنز نے اس کے حق میں 112 کے مقابلے میں 112 ووٹ ڈالے۔

یہ جانسن کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ ایوان نمائندگان کے تین رپبلیکن پہلے ہی انھیں سپیکر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ اگلے ہفتے اس معاملے پر ووٹنگ کے لیے دباؤ بھی ڈال سکتے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اربوں ڈالر کی نئی امداد آنے والے مہینوں میں یوکرین کی جنگ کی کوششوں کو جاری رکھے گی، لیکن اگر رپبلکن کانگریس میں زیادہ طاقت حاصل کر لیتے ہیں یا وائٹ ہاؤس کو واپسحاصل کر لیتے ہیں تو مزید امریکی حمایت کا امکان کم ہوتا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ ایوان نمائندگان نے ایک بل بھی منظور کیا ہے جس کے تحت ٹک ٹاک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے چین میں مقیم مالک کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ یا تو اپنے حصص فروخت کریں یا پھر امریکہ میں پابندی کا سامنا کریں

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *