سابق وزیر اعظم عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاونڈ کے مقدمے کی سماعت کے بعد کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں معلوم ہے کہ روف حسن پر حملے کے واقعہ کے پیچھے کون ہے۔

انھوں نے کہا کہ رؤف حسن کے ساتھ جو ہوا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نظام ڈنڈے کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان نے اپنی جماعت کے کارکنوں کو تیار رہنے کا حکم دیا اور کہا کہ روف حسن کے معاملے پر سڑکوں پر نکلیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری برداشت ختم ہو رہی ہے اور ہم سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پہلے ملکی حالات کی وجہ سے سڑکوں پر نہیں نکل رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ معیشت اس قابل نہیں کہ احتجاج برداشت کر سکے، کوئی بھی نقصان ہوا تو حکمراں خود ذمہ دار ہوں گے۔

انھوں نے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیار رہیں، ہم اسمبلی اور بجٹ اجلاس نہیں چلنے دیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے۔

انھوں نے کہا کہ مشکل فیصلے تب ہوتے ہیں جب لیڈر قربانیاں خود سے شروع کرے اور نواز شریف شہباز شریف اور زرداری بیرون ملک رکھے گئے اربوں روپے واپس لے کر آئیں۔

انھوں نے کہا کہ قوم بہت قربانی دے چکی اب قوم پہلے آپ سے قربانی چاہے گی۔

کمرہ عدالت میں موجود اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام کیسز براہ راست نشر کیے جائیں۔

قوم کو پتا لگے چوری کس نے کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر ان کے خلاف غداری کا بھی کیس چلانا ہے تو چلائیں وہ پھانسی کے لیے بھی تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ججز پر جو خوف تھا وہ اترتا جا رہا ہے اور ججز اپنی ساکھ کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں، اس لیے انھیں لگ رہا ہے کہ ڈیل ہو گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بنی گالہ کی سڑک توشہ خانہ کے تحائف بیچ کر بنوائی تھی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سمجھ لیا کہ میرے ضمیر کی قیمت صرف ایک سڑک ہے۔

انھوں نے کہا کہ نیب ترامیم کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس کی اگلی سماعت 30 مئی کو ہے اس لیے انھوں نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ وہ خود عدالت میں پیش ہوکر اپنا مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سماعت کے دوران عمرا ن خان کو عدالتی حکم پر اڈیالہ جیل سے ’سکائپ‘ کے ذریعے پیش کیا گیا تھا اور اس کی اس روز کی عدالتی سماعت کے بعد چیف جسٹس نے اگلی سماعت یعنی 30 مئی کو بھی وہی انتظامات کرنے کا حکم دیا ہے

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *