صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان مزید سکولوں کی اس بات پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ وہ چینی زبان کو اپنے لازمی نصاب میں شامل کریں۔ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر تبادلوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے مزید پالیسیوں پر زور دیا۔

چینی عوام کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانا چین کی کامیابی کی ایک اہم وجہ ہے اور پاکستان چین کی ترقی کے عمل میں مزید شامل ہونے کی امید کرتا ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان ہمیشہ تاریخ کے صحیح رخ پر کھڑا رہنے کے راستے کا انتخاب کرتے ہوئے ’ون چائنا‘ کے اصول پر پختہ یقین رکھتا ہے۔ چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 73 ویں سالگرہ کے موقع پر بدھ کو شائع ہونے والے چینی میڈیا کو انٹرویو میں صدر نے کہا کہ پاکستانی عوام چین سے غیر مشروط محبت کرتے ہیں۔

مارچ میں دوسری بار صدر منتخب ہونے کے بعد کسی بھی غیر ملکی میڈیا سے صدر زرداری کی یہ پہلی بات چیت تھی۔دونوں ممالک کے سابق رہنماؤں کے درمیان قریبی روابط کو یاد کرتے ہوئے صدر آصف زرداری نے کہا کہ میرے مرحوم سسر، پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قوم سے کہا تھا کہ مشرق کی طرف دیکھو، چین کی طرف دیکھو۔صدرمملکت آصف زرداری، جنہوں نے پاکستانی صدر کے طور پر اپنی پہلی مدت کے دوران 9 بار چین کا دورہ کیا تھا، نے ’’تائیوان کی آزادی‘‘ کی کسی بھی شکل کو مسترد کرتے ہوئے ون چائنا اصول کو تسلیم کرنے کے پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نےکہاکہ تائیوان چین کا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ چین کے ساتھ کھڑا رہے گا اور چین کے بنیادی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کے نقطہ آغاز، گوادر پورٹ کی ترقی پر تبصرہ کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ 11 سال قبل سی پیک کے آغاز کے بعد سے گوادر پورٹ پر بہت زیادہ کام ہو چکا ہے، یہ بندرگاہ دنیا بھر سے سرمایہ کاروں کو ہمیشہ خوش آمدید کہے گی۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *