۱-
میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کا ماننے والا ہوں۔ حقیقی آزادی کی جنگ سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ ایک سال ہونے والا ہے مجھے چکی میں ٹھہرایا ہوا ہے،سخت گرمی کے باوجود میں شکایت نہیں کروں گا۔میں وقت کے یزید کی کبھی غلامی نہیں کروں گا۔ جیل میں مرنے کیلئے تیار ہوں ،جب تک زندہ ہوں میں یہ جنگ لڑوں گا۔

۲-
آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت کیسز کی سماعت کے دوران پسند نا پسند نہیں ہونی چاہئے۔ قاضی فائز عیسٰی کا تعصب کھل کر سامنے آچکا ہے۔ جسٹس گلزار کے 5 رُکنی بینچ کے مطابق بھی قاضی فائز عیسیٰ ہمارے کیس نہیں سُن سکتے، جبکہ ہمارے وکلاء بھی بارہا اس امر پر اپنے اعتراضات اٹھا چکے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے مقدمات کے ہر بینچ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی شمولیت نا صرف ہمارے آئینی و قانونی حق کے عین منافی ہے بلکہ انصاف کی روح کے بھی برخلاف ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اگر مستعفی نہیں ہوتے تو بنچز سے علیحدگی اختیار کرلیں۔

۳-
اگر اس فراڈ الیکشن کی تحقیقات ہو جاتی ہیں تو چیف الیکشن کمشنر پر آرٹیکل 6 لگ جائے گا۔پورا مُلک جانتا ہے کہ ۲۰۲۴ کا الیکشن پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ تھا لیکن چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ الیکشن کمیشن کی تعریف کررہے ہیں، جس الیکشن کمیشن نے ملک کا سب سے فراڈ الیکشن کرایا ہمیں انصاف کیلئے اُسی کے پاس بھیجا جا رہا ہے۔میں ایک نئے غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے نیچے پھر سے انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کرتا ہوں ۔

ملک پر اس وقت جنگل کے بادشاہ کا تسلط ہے۔ ہر ادارے میں مداخلت نے ملک کا نظام درہم برہم کر رکھا ہے۔ پہلے پاکستان میں ہائبرڈ نظام تھا اب آمریت نافذ ہے۔ یہ لوگ تعصب اور انتقام کی آگ میں پاگل ہو چکے ہیں۔ پورے پاکستان کی طرح اڈیالہ جیل پر بھی ان کے ہرکاروں کا قبضہ ہے۔ سپرٹینڈنٹ جیل ایجنسیز کی نوکری کر رہا ہے۔ ملک میں دہشتگردی عروج پر ہے جبکہ ان کے کرنل اور میجر یہاں جیل میں بیٹھے ہوئے ہیں۔کل جیل میں بیٹھے کرنل کی ایما پر سپرٹینڈنٹ جیل نے ۳ گھنٹے انتظار کے باوجود میری ٹیم کو مجھ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ اگر ملاقات ہوتی تو میں ان کے اختلافات ختم کروا دیتا۔ یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی چھوٹی حرکتوں سے میری پارٹی کمزور ہوگی۔ جس پارٹی کو عوام کی حمایت حاصل ہو اسے کوئی جابرانہ ہتھکنڈہ کمزور نہیں کر سکتا۔

بھوک ہڑتال کے حوالے سے مشاورت کر رہا ہوں۔ اگر اسٹیبلشمنٹ اڈیالہ جیل کے معاملات اور میرے کیسز سے کنارہ کشی اختیار نہیں کرتی تو بھوک ہڑتال کروں گا۔

پارٹی رہنماؤں کو میری ہدایات ہیں کہ اپنے اختلافات عوام میں لے کر نہ جائیں۔ اگر آپ اختلافات عوام میں لیکر جائیں گے تو آپ اپنے اصل مقصد سے ہٹ جائیں گے۔

۴-
مذاکرات تب ہوتے ہیں جب کسی مسئلے کا حل نکلے، ہم شہباز شریف سے مذاکرات کریں گے تو جعلی فارم ۴۷ کے سہارے کھڑی اُن کی حکومت تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی۔ طاقتور طبقہ چاہتا تھا کہ میں گارنٹی دوں کہ اقتدار میں آکر ان پر ہاتھ نہیں ڈالوں گا۔

عاصم منیر نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا جنازہ نکال دیا ہے، بجٹ کے بعد ان کی سیاست ختم ہو گئی ہے۔ ان کے ساتھ وہ ہو گیا ہے جو دشمن کے ساتھ بھی نہیں ہونا چاہئے۔

۵-
اب ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ کانگریس اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مداخلت کا بیانیہ بناتے ہیں جبکہ خود افغانستان پر حملے کی احمقانہ دھمکیاں دیتے ہیں۔

امن و امان قومی معاملہ ہے، ملک کی خاطر تحریک انصاف اے پی سی میں شرکت کرے گی اور جعلی حکومت کا مؤقف سنے گی۔ عزم استحکام آپریشن پر ہمارے تحفظات موجود ہیں، اس آپریشن سے ملک میں عدم استحکام بڑھے گا۔

جب تک افغان حکومت ساتھ نہ دے طویل بارڈر پر یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں، ہمارے دور میں این ڈی ایس اور غنی حکومت آپس میں ملے تھے، میں اس کے باوجود افغانستان گیا اور بات چیت کی۔آپ طالبان کے خلاف آپریشن کریں گے وہ بھاگ کر افغانستان کے اندر چلے جائیں گے، جب تک آپ کو افغانستان سے تعاون نہیں ملے گا آپ اس آپریشن میں کامیاب نہیں ہو سکتے- بلاول بھٹو اور موجودہ وزیر خارجہ افغانستان کیوں نہیں گئے؟ افغانستان سے تعلقات کی بحالی ہماری فوری ضرورت ہے ۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *