یورپ میں کام کرنے کے خواہشمندوں کے لیے خوشخبری ہے کہ جرمنی کو 24مختلف شعبوں کے لیے 7لاکھ 70ہزار 301غیرملکی ورکرز کی فوری ضرورت ہے۔ میڈیا‘ کے مطابق جرمنی میں شرح پیدائش میں کمی کے سبب ورک فورس کا شدید فقدان ہے اور حکومت غیرملکی ورکرز پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
اس وقت جن شعبوں میں جرمنی کو فوری ورک فورس کی ضرورت ہے ان میں لائیو سٹاک فارمنگ، جنگلات، ہارٹیکلچر، ٹائر اینڈ وولکنائزیشن ٹیکنالوجی، ووڈ، فرنشنگ، انٹیریئر فٹنگ، میٹل ورکنگ، آٹومیشن، انٹریریئر کنسٹرکشن اینڈ ڈرائی والنگ، پائپ لائن کنسٹرکشن، پلانٹ، کنٹینر اینڈ اپریٹس کنسٹرکشن، مانیٹرنگ اینڈ مینٹی نینس آف ریلوے انفراسٹرکچر، فریٹ فارورڈنگ اینڈ لاجسٹکس، ارتھ موونگ اور متعلقہ مشینری کے ڈرائیورز، سیلز (فرنیچر، فٹنگز)، سیلز، سسٹم کیٹرنگ، فارماسیوٹیکل ٹیکنیکل اسسٹنٹس، بس اور ٹرین ڈرائیورز شامل ہیں۔
اکنامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ای آر آئی) کے ڈیٹا کے مطابق جرمنی میں کاشتکاری کے شعبے میں کام کرنے والے ورکرز 17یورو (تقریباً 5ہزار 200روپے) فی گھنٹہ اور 35ہزار 616پاﺅنڈ (تقریباً 1کروڑ 10لاکھ روپے) سالانہ تک کما سکتے ہیں۔ اسی طرح جنگلات میں کام کرنے والے ورکرز 18پاﺅنڈ فی گھنٹہ اور36ہزار 791پاﺅنڈ سالانہ تک کما سکتے ہیں۔ کنسٹرکشن ورکرز کا معاوضہ جرمنی میں زیادہ ہے۔ یہ لوگ فی گھنٹہ 21پاﺅنڈ اور سالانہ 44ہزار 52پاﺅنڈ تک کما سکتے ہیں۔
یورپی ممالک کے شہری بغیر ویزے کے جرمنی میں ان پوزیشنز پر ملازمت حاصل کر سکتے ہیں تاہم غیریورپی ممالک کے شہریوں کے لیے جرمنی کا ویزہ لازمی ہو گا۔ اس کے برعکس امریکہ، اسرائیل، آسٹریلیا، کینیڈا، جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ سمیت چند ممالک کے شہری صرف پاسپورٹ پر جرمنی جا سکتے ہیں ۔ انہیں جرمنی پہنچنے کے بعد رہائش کے لیے درخواست دینی ہو گی۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *