اور ہماری زمہ داری ۔
ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہوتے ہی سیاسی سرگرمیاں شروع ہوچکیں ہیں اور ہرطرف الیکشن کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں الیکشن میں سابقہ روایات کے مطابق پرانے بازیگروں کے علاوہ ہر علاقے میں کچھ نئے چہرے بھی میدان میں کود پڑے ہیں اور غریب عوام کو سبز باغ دکھانے میں مصروف عمل نظر آ تے ہیں اور ویسے بھی الیکشن کا اعلان ہوتے ہی عوام کی بے چینی میں پچاس فیصد کی کمی آ چکی ہے اور ایک مرتبہ پھر نئی امیدوں کے ساتھ الیکشن کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ملک کے دیگر حصوں کی طرح بٹگرام میں بھی الیکشن 2024 کی تیاریاں جاری ہیں اور سابقہ امیدواروں کے ساتھ اس دفعہ کچھ نئے چہرے نئے نعروں کے ساتھ میدان اترے ہیں اور اور ہر ایک امیدوار نےایک دوسرے سے مختلف مسائل پر اپنی سیاسی دکانداری چمکا رہے ہیں کیونکہ الیکشن سے قبل بٹگرام ضلعے میں یہ مسائل کسی بھی منتخب نمائندے یا عوامی نمائندے کو نظر ہی نہیں آ رہے تھے اب جبکہ ووٹ کی ضرورت آ ن پڑی ہے تو بٹگرام کے عوام کو درپیش مسائل انکو اندیھرے میں بھی نظر آتے ہیں اور ہر امیدوار ایک دوسرے سے زیادہ عوام دوست اور مخلص بنا پھرتا ہے اور اپنی جادوئی باتوں سے عوام کو ترقی و خوشحالی کی کہانیاں سنا رہیں ہیں ایسی صورتحال میں بٹگرام کے عوام کو اور خاص کر نوجوان طبقے کو اس الیکشن کو موقع غنیمت سمجھ کر اپنے علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لیے مخلص اور با صلاحیت قیادت کو سامنے لانے پر غور کرنا چاہیے نہ کہ موروثی سیاستدانوں کو ایک مرتبہ پھر اقتدار میں لاکر اپنی آ نے والی نسلوں کو پسماندگی اور تاریکیوں کی حوالے کر دیں بٹگرام ضلع قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لیکن اگر اس کی محرومیوں اور مسائل کی طرف دیکھیں تو سوائے مایوسی کے آ پکو کجھ بھی نظر نہیں آ ئیگا نہ یہاں پر تعلیم کے حوالے سے نہ صحت کے حوالے سے بہترین سہولیات ہیں اور نہ کوئی قابل زکر یونیورسٹی نی بچوں اور نوجوانوں کے لیے سٹیڈیم سوایے پلاسٹک کے کالے پائپ کھنڈرات کی شکل میں چھوٹی سڑکیں اور گلیاں جبکہ بعض مقامات پر چند ہینڈز پمپ جو کہ ہمارے ایم این اے اور ایم پی ایز کا ترقیاتی کاموں کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور یہی نہیں بلکہ علاقے کی پسماندگی میں ان لوگوں کا برابر کا حصہ ہیں جو اب کی بار ہمارے لیے تارے توڑنے کی باتیں کر رہے ہیں انہی حالات کو دیکھ کر آ پ خود اندازہ لگائیں کہ ہمارے علاقے کےلیئے کیسا قیادت چاہئے بہت ہوگیا کہ پرانی رویات زاتی مفادات اور ڈلوں جنبوں کی سیاست کوچھوڑ کر اجتماعی مفادات اولین رکھ کر ایک ایسے لیڈر کا انتخاب کریں جو صحیح طریقے سے اپنا اور علاقے کا تعارف تو کرسکیں نہ کہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے اپنے تعارف بھی ازادانہ طریقے سے کرنے کا مختاج ہو اور چنگیز خان کی زمانے کی اردو میں بات کررہا ہو جسکی نہ انکو خود سنجھ آ تی ہے اور نہ سننے والے کو بٹگرام کی پسماندگی ختم کرنے کےلیئے ایک جرار اور باصلاحیت قیادتِ کی ضرورت ہے تاکہ ایوان میں با آ واز بلند بٹگرام کی پسماندگی پر اور اپنے حقوق کے لیے مدلل اور مثبت انداز بات کر سکیں اور اپنے علاقے کا نام روشن کر سکیں۔
اٹھو نوجوانوں اب بھی وقت ہے اور اپنے علاقے کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کریں ۔بقول شاعر
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
تحریر : ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اجمیرہ
________

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *