سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی نے  کہا ہےکہ ان کا ملک ابتدائی طور پر، برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ پر مشتمل اقتصادی بلاک ‘برکس’ میں سرکاری طور پر شامل ہو گیا ہے۔Play Video

وائس آف امریکہ کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اگست میں کہا تھا کہ سلطنت یکم جنوری کی مجوزہ شمولیت سے قبل تفصیلات کا جائزہ لے گی اور کوئی مناسب فیصلہ کرے گی۔شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا تھا کہ برکس گروپ اقتصادی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے ایک مفید اوراہم چینل ہے۔ اس اقتصادی بلاک میں اس سے قبل برازیل، روس، بھارت ، چین اور جنوبی افریقہ شامل تھے لیکن نئے ارکان کے طور پر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، مصر ، ایران ایتھیوپیا کی شمولیت کے بعد یہ تعداد دوگنی ہو جائے گی ۔

سعودی عرب کی برکس ملکوں میں شمولیت ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان جیو پولیٹیکل کشیدگیاں جاری ہیں اور سلطنت کے اندر چین کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ جاری مستحکم تعلقات کے باوجود ، اس تشویش کے پیش نظر کہ واشنگٹن کی خلیج کی سیکیورٹی سے وابستگی ماضی کی نسبت کم ہو گئی ہے ، اپنا بیشتر راستہ خود اختیار کیا ہے ۔چین نے، جوسعودی عرب کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے ، برکس کی توسیع کے مطالبوں کی قیادت کی ہے تاکہ وہ مغرب کا مقابلہ کر سکے ۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گروپ بیجنگ اور ماسکو کے جیو پولیٹیکل مفادات کو پورا کر سکتا ہے، ایران اور سعودی عرب کی اس بلاک میں شمولیت خلیج فارس کے علاقے میں بیجنگ کے سیاسی اثر و رسوخ میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔ایک ایسے وقت میں جب چین اور امریکہ کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں اور یوکرین کی جنگ کے باعث مغرب سے روس کے تعلقات منقطع یا کشیدہ ہوئے ہیں، اس بلاک کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔توسیع شدہ برکس بلاک کو، روس اور چین کے درمیان ایک علامتی اتحاد میں ممکنہ اضافے کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *