سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لیے جانے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کے ارکان آٹھ فروی کو ہونے والے انتخابات میں آزاد حثیت سے حصہ لیں گے اور وہ اپنے امیدواروں کی الیکشن مہم چلائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد ان کی جماعت ملک بھر میں 226 خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے نامزدگی کرنے سے محروم ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ انتخابات 2024 کے نتیجے میں بننے والی حکومت ہارس ٹریڈنگ نہ کرے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف سے بلےکا

انتخابی نشان واپس لیے جانے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کے ارکان آٹھ فروی کو ہونے والے انتخابات میں آزاد حثیت سے حصہ لیں گے اور وہ اپنے امیدواروں کی الیکشن مہم چلائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد ان کی جماعت ملک بھر میں 226 خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے نامزدگی کرنے سے محروم ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ انتخابات 2024 کے نتیجے میں بننے والی حکومت ہارس ٹریڈنگ نہ کرے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی اپیل کو منظور کرنے اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لیے جانے کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اُن کی جماعت کے ارکان آٹھ فروی کو ہونے والے انتخابات میں آزاد حثیت سے حصہ لیں گے اور وہ اپنے امیدواروں کی الیکشن مہم چلائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد ان کی جماعت ملک بھر میں 226 خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے نامزدگی کرنے سے محروم ہو گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ انتخابات 2024 کے نتیجے میں بننے والی حکومت ہارس ٹریڈنگ نہ کرے۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *