ایران کی سکیورٹی فورسز نے پاکستانی سرحد کے اندر ایک گاؤں میں رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا ہے تاہم اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ حملہ ایسے وقت مںی ہوا ہے جب ایران وزیرِ خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے پاکستان کے عبوری وزیراعظم انور کاکڑ سے ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات سوئٹزرلینڈ میں ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق چند گھنٹے قبل پاسداران انقلاب نے ایران اور پاکستان کی سرحد پر ایک گاؤں کو اپنے میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گاؤں میں رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان میں جیش العدل کے دو ہیڈ کوارٹرز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ مذکورہ حملہ جیش العدل کیمپ پر پنجگور رائفلز کے علاقے سبز کوہ، چیدگی سیکٹر میں ہوا۔

اب تک اس حملے کے نتیجے میں 06 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

سبز کوہ، چیدگی بارڈر پاکستانی سرحد (بلوچستان) کے اندر ہے۔

پولیس کے مطابق جیش العدل ایک سنی بلوچ عسکریت پسند گروہ ہے جس کی ابتدا ایرانی صوبے سیستان بلوچستان سے ہوئی تھی۔ ایرانی سکیورٹی فورسرز کچھ عرصے سے ان کا پیچھا کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ جیش العدل سنی شدت پسند تنظیم جنداللہ کے سربراہ عبدالماک ریگی کی گرفتاری اور پھانسی کے بعد بنائی گئی تھی، یہ گروپ 2005 میں اس وقت کے صدر احمد نژاد پر حملے سمیت متعدد دھماکوں اور حملوں میں ملوث رہا ہے یہ کارروائیاں زیادہ تر بلوچستان کے سرحدی صوبے چار باہ اور زاہدان میں کی گئی ہیں۔

ایران کی حکومت اس گروہ کو دہشت گرد اور سعودی عرب اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں سے منسلک سمجھتی ہے اور اسے ’جیش الظلم‘ کہتی ہے۔ تاہم امریکہ، جاپان اور نیوزی لینڈ کے ساتھ مل کر اس گروپ کو دہشت گرد تسلیم کرتا ہے۔

ایران کا الزام ہے کہ جیش العدل نے پاکستان میں پناہ گاہ بنا رکھی ہے جبکہ پاکستان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *