ذرے ترے ہیں آج ستاروں سے تابناک

روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک

تندیء حاسداں پہ ہے غالب ترا سواک 

دامن وہ سل گیا ہے جو تھا مدتوں سے چاک 

اے سرزمینِ پاک

اب اپنے عزم کو ہے نیا راستہ پسند 

اپنا وطن ہے آج زمانے میں سربلند

پہنچا سکے گا اس کو نہ کوئی بھی اب گزند

اپنا علم چاند ستاروں سے بھی بلند

اب ہم کو دیکھتے ہیں عطارد ہو یا سماک

اے سرزمینِ پاک

اُترا ہے امتحان میں وطن آج کامیاب

اب حریت کی زلف نہیں محوِ پیچ وتاب

دولت ہے اپنے مُلک کی بے حد و بے حساب

ہوں گے ہم اپنے ملک کی دولت سے فیض یاب 

مغرب سے ہم کو خوف نہ مشرق سے ہم کو باک 

اے سرزمینِ پاک

اپنے وطن کا آج بدلنے لگا نظام 

اپنے وطن میں آج نہیں ہے کوئی غلام 

اپنا وطن ہے راہِ ترقی پہ تیزگام

آزاد، بامراد جواں بخت شاد کام 

اب عطر بیز ہیں جو ہوائیں تھیں زہر ناک

اے سرزمین پاک

ذرّے ترے ہیں آج ستاروں سے تابناک

روشن ہے کہکشاں سے کہیں آج تیری خاک

اے سرزمینِ پاک

٭٭٭٭٭

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *