بی بی سی کے مطابق عمران خان آئی ایم ایف کو خط لکھ کر مطالبہ کریں گے کہ پاکستان سے بات چیت الیکشن میں دھاندلی کے آڈٹ سے مشروط ہونی چاہیے: بیرسٹر علی ظفر

پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان آئی ایم ایف کو خط لکھیں گے جس میں ہم واضح کریں گے آئی ایم ایف کسی بھی قسم کی بات چیت کے لیے یہ شرط رکھے کہ جتنے بھی حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے اس کا آڈٹ ہو گا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر یہ آڈٹ ٹیم سپریم کورٹ کی سربراہی میں بنائی جائے تو بہت اچھا ہے۔‘

راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے بتایا کہ مجھے عمران خان نے بتایا ہے کہ وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو ایک خط لکھیں گے۔

انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف، یورپی یونین اور دیگر اداروں کا ایک چارٹر ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ قرض دینے یا کسی ملک کے ساتھ کام کرنے کے لیے وہاں ’گڈ گورننس‘ ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’گڈ گورننس کی سب سے اہم شرط جمہوریت ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں کا مینڈیٹ آٹھ فروری کے الیکشن میں چھینا گیا۔

انھوں ںے کہا کہ اگر الیکشن صاف اور شفاف نہیں تھے تو کوئی بھی ادارہ ایسے ملک کو ’قرض‘ دینے سے گریز کرے گا۔ ’کیونکہ ایسا قرض لوگوں پر مزید بوجھ ڈالے گا کیونکہ ایسی حکومت اس قرض کو واپس کرنے میں ناکام رہے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی الیکشن نتائج کا آڈٹ چاہتی ہے اور یہ شرط آئی ایم ایف کے سامنے رکھی جائے گی۔‘

خیال رہے کہ اس سے قبل اگست 2022 کے دوران پاکستانی ذرائع ابلاغ پر دو فون کالز کی آڈیو نشر کی گئی جن میں شوکت ترین کو پنجاب کے وزیر خزانہ محسن لغاری اور کے پی کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا سے الگ الگ آئی ایم ایف سے معاہدے کے تناظر میں وفاقی حکومت کو جواب دینے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔

اسی ماہ جھگڑا نے اس وقت کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ایک خط میں کہا تھا کہ ’آئی ایم ایف کی شرط پر سرپلس بجٹ نہیں چھوڑ سکتے۔‘ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے اس وقت اپنے مطالبات کی منظوری تک آئی ایم ایف کے ساتھ وفاقی حکومت کے معاہدے میں تعاون نہ کرنے کی پالیسی کا عندیہ دیا تھا۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *