چین نے پاکستان سے بشام حملے کی جامع تحقیقات کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ چینی اور ایک پاکستانی کے قتل کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

پاکستان میں چین کے سفارتخانے اور قونصلیٹ جنرل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 26 مارچ کو دن تقریباً ایک بجے چینی کمپنی کی ایک بس چینی عملے کو خیبر پختونخوا میں داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی طرف لے کر جا رہی تھی جب اس پر ایک دہشتگردی کا واقعہ پیش آیا، جس میں بدقسمتی سے پانچ چینی اور ایک پاکستانی شہری ہلاک ہوا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کا سفارتخانہ اور پاکستان میں قونصلیٹ جنرل اس حملے کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ چین نے متاثرین سے تعزیت کی اور لواحقین کے لیے ہمدردی کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چین اب اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر ہر ممکنہ کوشش کر رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چین کا سفارتخانہ اور قونصلیںٹ جنرل نے ایک ایمرجنسی پلان کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے پاکستان سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ اس حملے کی جامع تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

دریں اثنا، چین کا سفارتخانہ اور قونصلیٹ جنرل پاکستان میں چینی شہریوں اور چینی منصوبوں کی حفاظت اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہا ہے۔

اس بیان میں چینی شہریوں، تاجروں اور کمپنیوں کو سکیورٹی صورتحال پر کڑی نظر رکھنے، سکیورٹی الرٹ بڑھانے، سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کی یاددہانی کروائی گئی ہے۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *