اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو جہلم اراضی سکینڈل میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

پیر کو مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ نیب نے شواہد کے لیے بعد میں لکھا اور بندہ پہلے گرفتار کر لیا؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فواد چوہدری کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ پٹیشنر کی جانب سے قیصر امام ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا ہمارے پاس گواہ موجود ہے جو کہتا ہے کہ فواد چوہدری نے پچاس لاکھ روپے رشوت لی۔ عدالت نے استفسار کیا پچاس لاکھ روپے نیب کے دائرہ اختیار میں کیسے آتا ہے؟

نیب پراسیکیوٹر رافع مقصود نے کہا کیس ابھی انکوائری سٹیج پر ہے، مزید تفصیلات حاصل کر رہے ہیں، ایکنیک سمیت تمام متعلقہ اداروں کو لکھ رکھا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے نیب نے شواہد کے لیے بعد میں لکھا اور بندہ پہلے گرفتار کر لیا؟ یہ بتائیں کہ نیب کے پاس فواد چوہدری کے خلاف سب سے اہم یا مرکزی شواہد کیا ہیں؟

نیب پراسیکیوٹر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس عامر فاروق نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو چھوڑیں، پہلے شواہد تو بتائیں۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد فواد چوہدری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ فواد چوہدری اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *