بی بی سی اردو کے مطابق اڈیالا جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس کی منگل کے روز ہونے والی سماعت کے بعد بانی پاکستان تحریکِ انصاف نے میڈیا کے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھے ججز نے جو خط لکھا یہ سب کو پتہ ہے کہ جب سے رجیم چینج ہوئی یہ بات تب سے چل رہی ہے اور تمام ججز پیغام دیتے ہیں کہ وہ بے بس ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ پولیس بھی کہتی ہے کہ ہم پر دباؤ ہے جیل کو بھی آئی ایس آئی کنٹرول کر رہی ہے۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’احتساب عدالت کے سابق جج محمد بشیر دباؤ کی وجہ سے پانچ مرتبہ جیل کے ہسپتال گئے۔‘

صحافی رضوان قاضی کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’عدت میں نکاح کا کیس سننے والے جج قدرت اللہ نے وکلا کو بتایا کہ اس وقت تک بیٹے کا ولیمہ نہیں کر سکتا جب تک فیصلہ نہ سنائوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سائفر کیس میں میرا 342 کا بیان ہو رہا تھا جج 10 منٹ کیلئے باہر گئے اور واپس آتے ہی فیصلہ سنا دیا۔‘

سابق وزیر اعظم نے الزام عائد کیا کہ ’تمام ججز باہر سے کنٹرول ہو رہے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے سابق صدر عارف علوی کے ذریعے آرمی جنرل عاصم منیر کو پیغام بھیجا تھا کہ مجھے لندن پلان کا علم ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چیف الیکشن کمشنر لندن پلان پر عمل درآمد کا مرکزی کردار ہیں اور نگران حکومت اور الیکشن کمیشن نے مل کر لندن پلان پر عمل درآمد کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اقتدار میں بیٹھے لوگ ایجنسیوں کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتے۔‘

ایک سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’شکر ہے کہ تصدق جیلانی نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کیا اور سپریم کورٹ کا سات رکنی بینچ بنا دیا گیا۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کا خط لکھنا سنجیدہ معاملہ ہے اس پر فل کوٹ کو سماعت کرنی چاہیئے تھی،سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ کا بننا کمیشن بننے سے بہتر ہے۔‘

عمران حان کا کہنا تھا کہ ’ججز کو آواز اٹھانے پر سلوٹ کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ وہ ملک کو بچا لیں گے۔‘

اڈیالا جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران حان کا کہنا تھا کہ ’جنرل باجوہ نے ہمیں واضح طور پر کہا تھا کہ اگر چپ نہ بیٹھے تو کیسز بنائے جائیں گے اور سزائیں بھی ملیں گی۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈونلڈ لو نے اپنے اپ کو اور امریکی حکومت کو بچانے کے لیے چیزوں کی تردید کی۔ اسد مجید نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کی میٹنگ میں آکر دھمکی کا بتایا تھا۔‘

عمران خان نے کہا کہ ’مجھے عمر ایوب سے جان بوجھ کر ملنے نہیں دیا جا رہا تاکہ مشاورت نہ ہو سکے۔‘

اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی سے متعلق سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میری بیوی کے ساتھ جو کیا گیا وہ خطرناک ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف کے خلاف تمام گواہان ہارٹ اٹیک کی وجہ سے مارے گئے چند ماہ میں سب کی موت ہو گئی، مجھے ڈرانے کے لیے بشری بی بی کو زہر دیا گیا۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’بشری بی بی کو زہر دیا جائے گا تو کیا میں خاموش بیٹھوں گا

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *