یہاں ‘پاکی’ لفظ سے ہمارا مطلب طہارت یا پاکیزگی نہیں بلکہ آج جس مسئلہ کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ انگریزی میں مستعمل پاکستان کا مخفف ‘پاکی’ ہے۔ یہ اصطلاح آج بڑے وسیع پیمانے پر دُنیا بھر اور پاکستان میں بھی رائج ہے۔ غیروں کی بات تو چھوڑیں اِس لفظ کے اَزخود استعمال پر بحیثیت ایک پاکستانی ہمیں جتنی بھی شرم آئے وہ کم ہے۔

1960 کی دہائی میں جب انگلستان میں صنعتی اِنقلاب رونما ہوا تو گوروں کو مزدوروں کی ضرورت پڑی۔ اپنی پیداواری لاگت میں کمی لانے کے لیے اُس نے برصغیر کی ارزاں منڈی کا رُخ کیا اور بڑے پیمانے پر سستے داموں پاکستان سے بھرتیاں کیں۔ ان پاکستانیوں میں اکثریت ‘میر پوُر’ کے لوگوں کی تھی۔ جب اِن محنتی پاکستانیوں نے رزق حلال کمانے اور غربت دور کرنےکے لیے ترک وطن کیا اور انگلستان میں مستقل سکونت اختیار کی تو فوری طور پر زبان یعنی بات چیت کا ایک مسئلہ پیدا ہوگیا۔ یہ پاکستانی چونکہ یا تو بالکل اَن پڑھ تھے یا واجبی تعلیم یافتہ تھے اس لیے گوروں سے گفتگو ٹھیک طرح نہیں کر پاتے تھے۔ گو کہ گورے کو اُس وقت تک برصغیر سے گئے ہوئے 15سال بیت چکے تھے مگر آقا والا مزاج اَبھی بھی اُس کی طبیعت میں موجود تھا (اور کسی حد تک آج بھی موجود ہے)۔ اِس وجہ سے گورے کی نظر میں یہ پاکستانی جانور سے بدتر تھے بلکہ شاید مشین تھے۔ اِن کو بلانے کے لیے گورے نے ‘پاکی’ کی اصطلاح پیدا کی جس کا مقصد صرف اور صرف پاکستانیوں کی تذلیل تھا۔ بعد ازاں گوروں نے یہ اصطلاح تمام جنوبی ایشیائی لوگوں اور کبھی کبھی عرب قومیت پربھی لاگو کرنی شروع کردی۔

پھر اس لفظ کو انگلستان کے علاوہ آسٹریلیا, جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے گوروں نے بھی استعمال کرنا شروع کر دیا اور یوں ‘پاکی’ کا دائرہ پھیل کر ہر اُس ملک (نو آبادی) میں ہوگیا جہاں انگریزی بولی جاتی تھی اور جہاں کا گورا نسلی عصبیت(racism) کا شکار تھا۔

جو گورے نے کیا سو کیا آج اس بات کو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد افسوس کا پہلوُ تو یہ ہے کہ ہم پاکستانیوں نے بغیر کسی تحقیق کے اس ذلت آمیز لفظ کو خود ہی اپنے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس بات پر آج کاگورا یقیناً بری طرح ہنس رہا ہوگا! کرکٹ میچز میں جب ہمارے اپنے لوگ بڑے بڑے بینرز پر ‘پاکی پاؤر’ لکھتے ہیں اور دنیا جہان کے ٹی وی چینلز اُسے تمام عالم میں براڈکاسٹ کرتے ہیں تو در حقیقت انتہائی ذلت اور ندامت کا احساس ہوتا ہے۔ اَب تو اس لفظ کا استعمال اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ‘پاکی نگٹس’ تک ہماری مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہیں!

گر چہ بحیثیت پاکستانی ہمارے پاس نادم ہونے کے لیے بہت کچھ موجود ہے لیکن اگر اِس انبار کثیر میں رائی برابر بھی کمی ہوجائے تو میرے خیال میں اچھا ہی ہوگا۔ اس لیے میری سب پاکستانیوں سے یہ عاجزانہ درخواست ہے کہ خدارا اِس لفظ کا استعمال بند کر دیجئے اور باعزت قوم کی طرح اپنی مثبت شناخت پیدا کیجئے۔ اگر مخفف لکھنا ہی ہے تو ‘پاک ‘ لکھیے لیکن بہتر ہو گا اگر آپ پورا ‘پاکستان’ یا ‘پاکستانی ‘ لکھیں۔ بہت شکریہ!

بشکریہ چنیدہ

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *