دنیا کے امیر ترین انسانوں میں شمار ہونے والے ایلون مسک نے اے آئی ٹیکنالوجی کے بارے میں نئے انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ 2025 تک مصنوعی ذہانت زمین پر موجود کسی بھی فرد سے زیادہ ذہین ہوجائے گی اور سپر ہیومین آرٹی فیشل انٹیلی جنس ماڈل تیار ہو جائے گا۔

سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک انٹرویو کے دوران ایلون مسک نے کہا کہ ان کے خیال میں اگلے سال کے اختتام تک ایسا ممکن ہو جائے گا، کیونکہ اس سال اور گزشتہ سال چپس کی قلت کا سامنا ہوا ہے جبکہ ایک یا 2 برسوں میں بجلی کی رسد میں بھی مزید مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ایلون مسک اس سے قبل بھی اے آئی سے متعلق انکشافات کرچکے ہیں، اور مصنوعی ذہانت کو انسانوں سے زیادہ طاقتور قرار دینے کے ماڈؒل کی تیاری پر بھی بات کرچکے ہیں۔ اپریل 2024 کے شروع میں ایک کانفرنس سے خطاب کے دوران ایلون مسک نے کہا تھا کہ 2030 تک اے آئی ٹیکنالوجی لوگوں سے زیادہ ذہین ہوگی۔

لیکن انہوں نے اس کے منفی اثرات کو ختم کرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں چاہیے کہ اے آئی کو ہمیشہ سچ بولنے اور پرتجسس رہنے کی تربیت دیں۔ کیونکہ 5 سے 6 برسوں میں انسانوں سے زیادہ ذہین اے آئی ماڈلز تیار ہو جائیں گے۔

نومبر 2023 میں اے آئی سیفٹی کانفرنس سے خطاب کے دوران ایلون مسک نے کہا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی بار انسانوں کا سامنا خود سے زیادہ ذہین حریف سے ہوگا۔

انہوں نے کہا تھا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ہم اس طرح کی چیز پر کنٹرول کر سکتے ہیں یا نہیں، مگر ان کے خیال میں ہمیں اس کی راہ کا تعین کرنا چاہیے جو انسانیت کے لیے مفید ہوگا۔

واضح رہے ایلون مسک متعدد بار یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر انکو موقع ملے کہ مصنوعی ذہانت کو روکا جائے تو وہ ایسا کرنے میں خوشی محسوس کریں گے اور اس کام کو کرنا پسند کریں گے

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *