عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو چھ ایسے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جنھیں اس سال شدید تنازعات کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق تنازعات اور سخت میکرو اکنامک پالیسیوں کی شرائط کی وجہ سے ان ملکوں کی معاشی حالت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو تنازعات کے شکار چھ ملکوں کی فہرست میں اس وقت شامل کیا گیا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہے اور اسے پروگرام کے تحت سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑا۔

موجودہ پروگرام کے تحت پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی رقم رواں مہینے میں موصول ہونی ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے اور بڑے پروگرام کی طرف بھی بڑھ رہا ہے جس میں موجود تین ارب ڈالر سے زیادہ قرضے کے لیے پاکستان اور عالمی ادارے کے درمیان مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔

آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کیا کہا؟

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں معاشی اشاریوں کے بارے میں پیشگوئی کے علاوہ پاکستان کو ایسے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جنھیں شدید تنازعات کا سامنا ہے۔

اس رپورٹ میں عراق، شام، صومالیہ، سوڈان، یمن کے ساتھ پاکستان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جنھیں اس سال شدید تنازعات کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکستان میں اکنامک گروتھ کے منظر نامہ میں ریکوری دہشت گردی کے واقعات اور سٹرکچرل ریفارمز میں ہونی ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق ملک میں سول اور عسکری فورسز پر دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں پاکستان میں کام کرنے والے چینیوں پر بھی حملے ہیں جب گذشتہ مہینے ایک حملے میں پانچ چینی باشندے ہلاک ہو گئے تھے۔

معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر اکرام الحق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کہ دہشت گردی کے واقعات کے ساتھ اس رپورٹ میں اندرونی سیاسی عدم استحکام اور مہنگائی کے چیلنج بھی بتائے گئے ہیں جو پاکستان کے لیے خطرہ ہیں۔

کن بنیادوں پر ایک ملک کو تنازعات کا شکار قرار دیا جاتا ہے؟

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو تنازعات کے شکار ملک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ایک ملک کو کس بنیاد پر اس فہرست میں ڈالا جاتا ہے، اس کے بارے میں آئی ایم ایف نے کہا ایک ملک میں اگر 25 ہلاکتیں ایسے آرمڈ تنازعات میں ہوں جو اس سال پہلی جنوری سے آٹھ مارچ تک واقع ہوئے ہیں تو اسے تنازعات کے شکار ملکوں کی فہرست میں ڈالا جاتا ہے۔

ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا آئی ایم ایف کی جانب سے اس سلسلے میں جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے اس میں عسکریت پسندوں کی جانب سے ملکی تنصیبات، حکام اور غیر ملکی افراد پر حملے شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک جنگ زدہ اس لحاظ سے ہے کہ ملکی افواج ابھی بھی دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے حملوں سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔

کیا اس سے پاکستان میں سرمایہ کاری متاثر ہوگی؟

ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا کہ اس منفی تاثر کی وجہ سے مشکل ہو گا کہ پاکستان عالمی اداروں سے فنڈز اکٹھے کر کے اپنی بیرونی ادائیگیوں کے لیے رقم کا انتظار کرے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اگلے تین سالوں میں ہر سال 25 ارب ڈالر کا انتظام کرنا ہے تاکہ وہ بیرونی ادائیگیوں کے قابل ہو سکے۔ انھوں نے کہا یہ فنڈز قرضے کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری سے بھی ارینج کرنے ہیں جو ملک کے منفی امیج کی وجہ سے مشکل ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ یہ صورتحال ملک کے برآمدی آرڈرز اور علاقائی تجارت پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *