اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پر جسٹس بابر ستار کے خلاف چلنے والی مہم کو جھوٹی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیدیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ معلومات کو سوشل میڈیا پر بار بار پوسٹ کیا گیا، پوسٹ میں معزز جج، ان کی اہلیہ اور بچوں کی سفری دستاویزات بھی شامل ہیں، جسٹس بابر ستار کی اہلیہ اور بچوں کی سفری دستاویزات، نجی معلومات بے بنیاد الزامات کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہیں۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسٹس بابر ستار کی پاکستان کے سوا کسی ملک کی شہریت کبھی نہیں رہی، جسٹس بابر ستار نے آکسفورڈ یونیورسٹی، پھر ہارورڈ لاءسکول سے گریجویشن کی، انہوں نے امریکی لاء فرم کے ساتھ بطور وکیل کام کی

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *