جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کے وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ’جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ مشترکات پر پارلیمنٹ میں ہماری آواز ایک ہونی چاہیے اور ملک میں ایک خوشگوار سیاسی ماحول پیدا کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا ہم اگر اختلافات ختم نہیں کر سکتے تو انھیں نرم کیا جا سکتا ہے۔

تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی پاسداری کے لیے جدوجہد کرنا چاہتے ہیں۔

تحریک انصاف کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس ہوئی، اس کے بعد اسلام آباد پولیس نے ہمارے دفتر پر دعویٰ بول دیا، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اس وقت ملک میں عملاً ’آئین معطل ہے، یہ ملک بنانا ری پبلک بنتا جا رہا ہے، آزادی اظہار رائے کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔‘

ان کے مطابق ان تمام امور پر مل کر جدوجہد کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں ’آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک ہونا پڑے گا۔‘

اسد قیصر نے کہا کہ ’ہماری جدوجہد ’قانون کی عملداری قائم کرنے کے لیے ہے۔ ملک کو بحران سے نکالیں گے، قانون کی حکمرانی سے معیشیت مستحکم ہو گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’رؤف حسن کے ساتھ جو ہوا یہ واضح پیغام ہے کہ یہاں ایک جنگل کا قانون ہے۔ ‘

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *