پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن نے پارٹی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ روز ان پر جو حملہ ہوا اس میں ’ان کا ہدف میری شہ رگ تھی، میں نے ڈک کیا تو بچ گیا، وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے ہم آپ کو دو دن سے ڈھونڈ رہے تھے۔‘

رؤف حسن نے کہا کہ چند روز قبل جب وہ صحافی محمد مالک کے ٹی وی شو میں شریک ہو کر باہر نکلے تو ان کا چار لوگوں نے تعاقب کیا، انھیں دھکے اور گالیاں دیں۔ ان کے مطابق اس وقت وہ گاڑی تک پہنچ کر وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

رؤف حسن نے کہا کہ اس وقت ملک میں اس وقت ’جمہوریت کے دھویں کے پیچھے فرد واحد کی حکومت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آپ مار تو ہمیں سکتے ہیں مگر ہم آپ کے سامنے جھکیں گے نہیں، سرنگوں نہیں کریں گے۔‘

انھوں نے کہا ہم میں سے کوئی بھی ان فسطائی طاقتوں کے سامنے نہیں جھکے گے اور سرنگوں نہیں ہو گا۔ رؤف حسن کے مطابق عمران خان باہر آئیں گے اور وہ وزیراعظم بنیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے ساتھ جو ہوا وہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے، جو میرے پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔‘

رؤف حسن نے کہا کہ ’یہ زخم تو مائل ہو جائے گا، مگر شخص واحد کی آمریت نے جو اس ریاست کی روح پر جو گھاؤ لگائے ہیں مگر شاید وہ مائل نہیں ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کون ہے وہ، کیا اسے کوئی پوچھے گا، اسے کمرہ عدالت میں بلایا جائے گا۔ کس آئین اور قانون کے تحت یہ کیا گیا کیا کوئی وجہ بتائی جائے گی۔‘

عمر ایوب نے کہا کہ جس ٹولے نے رؤف حسن پر حملہ کیا وہ اب کہاں ہے؟ پولیس 24 گھنٹے کے بعد بھی بلیڈ حملہ کرنے والوں تک نہیں پہنچ سکی۔

اس موقع پر اعظم سواتی نے بھی رؤف حسن پر حملے کی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ جو کچھ میرے اور میرے خاندان والوں کے ساتھ ہوا اور جو ’رجیم چینج کی ایف آئی آر (جنرل) باجوہ کے خلاف کاٹی جاتی تو یہ آج نہ ہوتا

بشکریہ بی بی سی اردو

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *