ان نامساعد حالات میں بھی جہاں کہیں ممکن ہو‘ قوم اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہے۔ بے حسی کا الزام تب لگایا جائے اگر یہاں کے لوگ بالکل ہی دب جاتے اور اپنے دل کی بات ظاہر کرنے کی جرأت نہ کرتے۔ الیکشن آئے‘ دنیا جہاں کے کرتب آزمائے گئے لیکن قوم نے اپنی رائے کا ایسا اظہار کیا کہ جائزہ لینے والوں کے سر چکرا گئے۔ انہیں سمجھ نہ آئی کہ ہو کیا گیا ہے۔ مشکل حالات میں مزاحمت کے طریقے بدل جاتے ہیں۔ جب جلسے جلوس ہو سکتے تھے تو عوام ان میں آتے تھے۔ سختیاں ہونے لگیں تو اظہارِ رائے کے دیگر طریقے اپنائے جانے لگے۔ لوگ پہلے بھی سوشل میڈیا استعمال کرتے تھے لیکن حالات خراب ہوئے تو سوشل میڈیا کو میدانِ مزاحمت بنا دیا گیا۔ وہ بھی اس طریقے سے کہ جائزہ لینے والوں کے سر پھر چکرا گئے۔ اب تک بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اس سوشل میڈیا کی مصیبت کا کیا جائے۔
عدلیہ کا جو کردار سامنے آ رہا ہے وہ دوسرا دردِ سر بنا ہوا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ جج صاحبان کے خط کا مسئلہ ابھی لٹکا ہوا ہے اور کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ رہا۔ ہم میں سے کون توقع کر سکتا تھا کہ جج اس انداز سے بول پڑیں گے لیکن انہوں نے ایسا کیا۔ جسٹس بابر ستار کے خلاف ایک پرلے درجے کی مہم چلانے کی کوشش نہیں کی گئی؟ لیکن کیا وہ دب گئے؟ کیا وہ منتوں ترلوں پہ آ گئے؟ سپریم کورٹ میں دیکھ لیجئے‘ کھلی عدالت میں جسٹس اطہر من اللہ نے کیسی کیسی باتیں کر ڈالیں۔ کیا یہ باتیں اچھی لگی ہوں گی؟ سمجھا تو یہ جا رہا تھا کہ عدلیہ سے ایسی آوازیں نہیں اٹھیں گی‘ سب کچھ ٹھیک کر لیا گیا ہے۔ لیکن جن میں ہمت ہے بول رہے ہیں اور اگلے دانت پیس رہے ہوں گے کہ ایسے جج صاحبان کا کیا کِیا جائے۔ اور اب یہ جو کسی کی بازیابی کا کیس اسلام آباد ہائیکور ٹ میں لگا ہوا ہے‘ رات گئے اس کیس کے احوال پڑھ رہا تھا تو دل کیا کہ بستر سے اٹھوں اور جج صاحب کو سیلوٹ ماروں۔ انہوں نے کوئی غلط بات تو نہیں کی‘ سچ بول رہے تھے لیکن یہی ان کا قصور بنتا ہے کیونکہ سب سے ناپسندیدہ چیز آج کل سچ بولنا ہے اور جسٹس کیانی کچھ زیادہ ہی سچ بول رہے ہیں۔ انہوں نے جو بنیادی بات کی کہ کسی کی بازیابی کی نوبت آنی ہی نہیں چاہیے‘ اس سے کوئی انکار کیا جا سکتا ہے؟ اور وہ کہہ رہے ہیں کہ جواب دیں‘ لکھ کر دیں اور یہی تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔ تکلیف نہیں غصہ اس بات پر آ رہا ہے کہ ایسی باتیں کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ پہلے تو ایسا نہ ہوتا تھا‘ ہمارا رعب چلتا تھا‘ اب کیوں نہیں اس انداز سے چل رہا؟
جس قسم کے حالات یہاں رہے ہیں اور اب بھی ہیں‘ اس میں مایوسی پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ انسان جب اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے‘ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ زیادتی ہو رہی ہے لیکن اس کا کچھ کیا نہیں جا سکتا تو بے بسی کے عالم میں مایوس ہو جاتا ہے۔ اور یہ کہتا ہے کہ یہاں کچھ ممکن نہیں‘ یہاں کچھ نہیں ہو سکتا‘ ہمارا معاشرہ لاعلاج ہے‘ ہم لوگ ہی ایسے ہیں کہ ہم پر زیادتیاں ہوتی رہیں اور ہم چوں چراں کیے بغیر انہیں برداشت کرتے رہیں۔ لیکن جب لاہور کی کسی جیل سے خواتین عدالت میں پیشیوں کے لیے لائی جاتی ہیں اورکچھ پروا کیے بغیر انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتی ہیں تو مایوسی کے سائے بکھر جاتے ہیں۔ دل میں ہمت پیدا ہوتی ہے کہ اگر ان نہتی خواتین کا یہ حوصلہ ہے تو اوروں کو بھی کچھ حوصلہ لینا چاہیے۔ اور پھر جب جسٹس کیانی جیسے جج انصاف کے تقاضوں کے بیچ میں رہ کر حق اور سچ کی بات کرتے ہیں تو انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ نہیں‘ یہ مری ہوئی قوم نہیں ہے‘ اس کے وجود میں دھڑکتا ہوا دل اب بھی موجود ہے۔ کیانی نام سے یاد آیا کہ جسے تمام حریت پسند پاکستانی ایک دلیر جج مانتے ہیں‘ جسٹس محمد رستم کیانی‘ وہ بھی تو کیانی تھے۔ چلیں اچھی بات ہے ایک اور کیانی اپنے نامور پیشرو کے راستے پر چل رہا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ اس دیس میں ایسے لوگوں کی کمی ہے۔ کیانی تو اور بھی بہت ہیں لیکن رستم کیانی اور محسن کیانی کچھ اور بھی ہونے چاہئیں۔
مسئلہ ہمارا یہاں یہ بھی ہے کہ بڑی کرسیوں پر چھوٹے لوگ بیٹھ جاتے ہیں۔ سوچ کی جو وسعت اورگہرائی حکمرانی کے لیے ہونی چاہیے‘ ایسے لوگوں میں نہیں پائی جاتی۔ ویسے ہی ملک مسائل زدہ ہو اور پھر ایسے لوگ بڑی پوزیشنوں پر بیٹھے ہوں تو حالات مزید خراب ہونے کی طرف جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ پوری کی پوری قوم ہار اور شکست مان جائے۔ 1940ء میں فرانس کے ساتھ یہی ہوا تھا۔ تاریخ میں کتنا اونچا نام فرانس کا ہے لیکن جرمنی نے حملہ کیا‘ فرانسیسی فوج تو ناکارہ ثابت ہوئی مگر بحیثیت قوم بھی فرانس ہمت ہار گیا۔ نازی جرمنی کے سامنے ان سے کھڑا نہ ہوا گیا۔ اس تناظر میں دیکھیں توکتنی حوصلہ افزا بات ہے کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستانی قوم میں زندگی کی رمق موجودہے۔ بہت کچھ ہونے کے باوجود لوگ ہمت نہیں ہارے اور یہی کیفیت حالات دیکھنے والوں کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے۔ کیونکہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کیا کریں۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان حالات پہ قابو کیسے پائیں۔
جلسے جلوس کا موسم آیا تو وہ بھی ہو جائیں گے لیکن اس وقت لوگ وہ کر رہے ہیں جو کر سکتے ہیں۔ کسی محفل میں جائیں تو دنگ رہ جانا پڑتا ہے کیونکہ وہاں ایسی ایسی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ پہلے تو لوگ کچھ احتیاط برتتے تھے‘ اِدھر ادھر دیکھ کر بات کرتے تھے لیکن اب تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حجاب کوئی رہا نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے ایسے تمسخر اڑائے جاتے ہیں کہ سوائے الامان الحفیظ کہنے کے انسان اور کچھ کہہ نہیں سکتا۔ پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ہے لیکن یہاں بخار سوشل میڈیا کی وجہ سے ہے۔ اونچی سطح کی میٹنگوں میں موضوع کیا ہوتا ہے؟ سوشل میڈیا۔ سبحان اللہ! اور ان کو دیکھیں جو ہمارے فارم 47 کے پنجاب کے حکمران ہیں‘ ان کی پولس کی وردیوں کی تو داد دینی پڑتی ہے کیونکہ سلائی بہت عمدہ ہوتی ہے لیکن ان کی ترجیحات تو دیکھیں۔ یہ کون سا ہتکِ عزت والا قانون انہوں نے پاس کروایا ہے؟ ان سے کوئی پوچھے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے کام چلے گا؟ خلقِ خدا کی زبانیں بند ہو جائیں گی؟ لوگ جو آپ کا تمسخر اڑاتے ہیں‘ فارم 47 کی نسبت سے جو پھبتیاں کَسی جاتی ہیں‘ کیا ایسے مضحکہ خیز قوانین کے بننے سے یہ سلسلے رک جائیں گے؟ یہ لوگ کس دنیا میں رہ رہے ہیں؟ انہیں کچھ سمجھ نہیں کہ عوام کا موڈ کیا ہے اور حالات کس نہج پہ پہنچے ہوئے ہیں؟
لیکن کوئی بات نہیں‘ اسلام آباد ہائیکورٹ کو دیکھ کر کچھ حوصلہ سا پیدا ہوتا ہے۔ اور دل گواہی دیتا ہے کہ حالات اتنے بھی مایوس کن نہیں کہ جتنے نظر آتے ہیں۔ مہنگائی کتنی ہے؟ معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے لیکن پھر بھی لوگوں کی نظروں میں ایک بیداری ہے۔ یہ جو گندم کے ساتھ ہوا ہے کسانوں کی کمر انہوں نے توڑ کے رکھ دی ہے۔ کاکڑ سے سوال ہوا تو جواب آیا میرا منہ نہ کھلواؤ‘ تمہارے فارم 47 کی بات کروں گا منہ نہ چھپا سکو گے۔ میں نے ان انتخابات میں دیکھا تھا کہ لوگوں کو دبانے کے لیے وہ وہ ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جن کی نظیر ہماری تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن لوگ دبے نہیں اور ووٹ ڈالنے کے وقت انہوں نے وہی کیا جو ان کا دل کہتا تھا۔ یہ جیتی جاگتی قوم کی نشانیاں ہیں اور اس حوالے سے پاکستانی قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔
اور محترم وزیر قانون کا ردِعمل تو دیکھیں۔ جسٹس کیانی کے جواب میں اُکھڑی باتیں کرتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

بشکریہ: روزنامہ دنیا
‎@ayazamir

‏نہیں نہیں‘ قوم بے حس نہیں ہوئی
تحریر : ایاز امیر

ان نامساعد حالات میں بھی جہاں کہیں ممکن ہو‘ قوم اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہے۔ بے حسی کا الزام تب لگایا جائے اگر یہاں کے لوگ بالکل ہی دب جاتے اور اپنے دل کی بات ظاہر کرنے کی جرأت نہ کرتے۔ الیکشن آئے‘ دنیا جہاں کے کرتب آزمائے گئے لیکن قوم نے اپنی رائے کا ایسا اظہار کیا کہ جائزہ لینے والوں کے سر چکرا گئے۔ انہیں سمجھ نہ آئی کہ ہو کیا گیا ہے۔ مشکل حالات میں مزاحمت کے طریقے بدل جاتے ہیں۔ جب جلسے جلوس ہو سکتے تھے تو عوام ان میں آتے تھے۔ سختیاں ہونے لگیں تو اظہارِ رائے کے دیگر طریقے اپنائے جانے لگے۔ لوگ پہلے بھی سوشل میڈیا استعمال کرتے تھے لیکن حالات خراب ہوئے تو سوشل میڈیا کو میدانِ مزاحمت بنا دیا گیا۔ وہ بھی اس طریقے سے کہ جائزہ لینے والوں کے سر پھر چکرا گئے۔ اب تک بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اس سوشل میڈیا کی مصیبت کا کیا جائے۔
عدلیہ کا جو کردار سامنے آ رہا ہے وہ دوسرا دردِ سر بنا ہوا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ جج صاحبان کے خط کا مسئلہ ابھی لٹکا ہوا ہے اور کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ رہا۔ ہم میں سے کون توقع کر سکتا تھا کہ جج اس انداز سے بول پڑیں گے لیکن انہوں نے ایسا کیا۔ جسٹس بابر ستار کے خلاف ایک پرلے درجے کی مہم چلانے کی کوشش نہیں کی گئی؟ لیکن کیا وہ دب گئے؟ کیا وہ منتوں ترلوں پہ آ گئے؟ سپریم کورٹ میں دیکھ لیجئے‘ کھلی عدالت میں جسٹس اطہر من اللہ نے کیسی کیسی باتیں کر ڈالیں۔ کیا یہ باتیں اچھی لگی ہوں گی؟ سمجھا تو یہ جا رہا تھا کہ عدلیہ سے ایسی آوازیں نہیں اٹھیں گی‘ سب کچھ ٹھیک کر لیا گیا ہے۔ لیکن جن میں ہمت ہے بول رہے ہیں اور اگلے دانت پیس رہے ہوں گے کہ ایسے جج صاحبان کا کیا کِیا جائے۔ اور اب یہ جو کسی کی بازیابی کا کیس اسلام آباد ہائیکور ٹ میں لگا ہوا ہے‘ رات گئے اس کیس کے احوال پڑھ رہا تھا تو دل کیا کہ بستر سے اٹھوں اور جج صاحب کو سیلوٹ ماروں۔ انہوں نے کوئی غلط بات تو نہیں کی‘ سچ بول رہے تھے لیکن یہی ان کا قصور بنتا ہے کیونکہ سب سے ناپسندیدہ چیز آج کل سچ بولنا ہے اور جسٹس کیانی کچھ زیادہ ہی سچ بول رہے ہیں۔ انہوں نے جو بنیادی بات کی کہ کسی کی بازیابی کی نوبت آنی ہی نہیں چاہیے‘ اس سے کوئی انکار کیا جا سکتا ہے؟ اور وہ کہہ رہے ہیں کہ جواب دیں‘ لکھ کر دیں اور یہی تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔ تکلیف نہیں غصہ اس بات پر آ رہا ہے کہ ایسی باتیں کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ پہلے تو ایسا نہ ہوتا تھا‘ ہمارا رعب چلتا تھا‘ اب کیوں نہیں اس انداز سے چل رہا؟
جس قسم کے حالات یہاں رہے ہیں اور اب بھی ہیں‘ اس میں مایوسی پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ انسان جب اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے‘ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ زیادتی ہو رہی ہے لیکن اس کا کچھ کیا نہیں جا سکتا تو بے بسی کے عالم میں مایوس ہو جاتا ہے۔ اور یہ کہتا ہے کہ یہاں کچھ ممکن نہیں‘ یہاں کچھ نہیں ہو سکتا‘ ہمارا معاشرہ لاعلاج ہے‘ ہم لوگ ہی ایسے ہیں کہ ہم پر زیادتیاں ہوتی رہیں اور ہم چوں چراں کیے بغیر انہیں برداشت کرتے رہیں۔ لیکن جب لاہور کی کسی جیل سے خواتین عدالت میں پیشیوں کے لیے لائی جاتی ہیں اورکچھ پروا کیے بغیر انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتی ہیں تو مایوسی کے سائے بکھر جاتے ہیں۔ دل میں ہمت پیدا ہوتی ہے کہ اگر ان نہتی خواتین کا یہ حوصلہ ہے تو اوروں کو بھی کچھ حوصلہ لینا چاہیے۔ اور پھر جب جسٹس کیانی جیسے جج انصاف کے تقاضوں کے بیچ میں رہ کر حق اور سچ کی بات کرتے ہیں تو انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ نہیں‘ یہ مری ہوئی قوم نہیں ہے‘ اس کے وجود میں دھڑکتا ہوا دل اب بھی موجود ہے۔ کیانی نام سے یاد آیا کہ جسے تمام حریت پسند پاکستانی ایک دلیر جج مانتے ہیں‘ جسٹس محمد رستم کیانی‘ وہ بھی تو کیانی تھے۔ چلیں اچھی بات ہے ایک اور کیانی اپنے نامور پیشرو کے راستے پر چل رہا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ اس دیس میں ایسے لوگوں کی کمی ہے۔ کیانی تو اور بھی بہت ہیں لیکن رستم کیانی اور محسن کیانی کچھ اور بھی ہونے چاہئیں۔
مسئلہ ہمارا یہاں یہ بھی ہے کہ بڑی کرسیوں پر چھوٹے لوگ بیٹھ جاتے ہیں۔ سوچ کی جو وسعت اورگہرائی حکمرانی کے لیے ہونی چاہیے‘ ایسے لوگوں میں نہیں پائی جاتی۔ ویسے ہی ملک مسائل زدہ ہو اور پھر ایسے لوگ بڑی پوزیشنوں پر بیٹھے ہوں تو حالات مزید خراب ہونے کی طرف جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ پوری کی پوری قوم ہار اور شکست مان جائے۔ 1940ء میں فرانس کے ساتھ یہی ہوا تھا۔ تاریخ میں کتنا اونچا نام فرانس کا ہے لیکن جرمنی نے حملہ کیا‘ فرانسیسی فوج تو ناکارہ ثابت ہوئی مگر بحیثیت قوم بھی فرانس ہمت ہار گیا۔ نازی جرمنی کے سامنے ان سے کھڑا نہ ہوا گیا۔ اس تناظر میں دیکھیں توکتنی حوصلہ افزا بات ہے کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستانی قوم میں زندگی کی رمق موجودہے۔ بہت کچھ ہونے کے باوجود لوگ ہمت نہیں ہارے اور یہی کیفیت حالات دیکھنے والوں کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے۔ کیونکہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کیا کریں۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان حالات پہ قابو کیسے پائیں۔
جلسے جلوس کا موسم آیا تو وہ بھی ہو جائیں گے لیکن اس وقت لوگ وہ کر رہے ہیں جو کر سکتے ہیں۔ کسی محفل میں جائیں تو دنگ رہ جانا پڑتا ہے کیونکہ وہاں ایسی ایسی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ پہلے تو لوگ کچھ احتیاط برتتے تھے‘ اِدھر ادھر دیکھ کر بات کرتے تھے لیکن اب تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حجاب کوئی رہا نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے ایسے تمسخر اڑائے جاتے ہیں کہ سوائے الامان الحفیظ کہنے کے انسان اور کچھ کہہ نہیں سکتا۔ پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ہے لیکن یہاں بخار سوشل میڈیا کی وجہ سے ہے۔ اونچی سطح کی میٹنگوں میں موضوع کیا ہوتا ہے؟ سوشل میڈیا۔ سبحان اللہ! اور ان کو دیکھیں جو ہمارے فارم 47 کے پنجاب کے حکمران ہیں‘ ان کی پولس کی وردیوں کی تو داد دینی پڑتی ہے کیونکہ سلائی بہت عمدہ ہوتی ہے لیکن ان کی ترجیحات تو دیکھیں۔ یہ کون سا ہتکِ عزت والا قانون انہوں نے پاس کروایا ہے؟ ان سے کوئی پوچھے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے کام چلے گا؟ خلقِ خدا کی زبانیں بند ہو جائیں گی؟ لوگ جو آپ کا تمسخر اڑاتے ہیں‘ فارم 47 کی نسبت سے جو پھبتیاں کَسی جاتی ہیں‘ کیا ایسے مضحکہ خیز قوانین کے بننے سے یہ سلسلے رک جائیں گے؟ یہ لوگ کس دنیا میں رہ رہے ہیں؟ انہیں کچھ سمجھ نہیں کہ عوام کا موڈ کیا ہے اور حالات کس نہج پہ پہنچے ہوئے ہیں؟
لیکن کوئی بات نہیں‘ اسلام آباد ہائیکورٹ کو دیکھ کر کچھ حوصلہ سا پیدا ہوتا ہے۔ اور دل گواہی دیتا ہے کہ حالات اتنے بھی مایوس کن نہیں کہ جتنے نظر آتے ہیں۔ مہنگائی کتنی ہے؟ معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے لیکن پھر بھی لوگوں کی نظروں میں ایک بیداری ہے۔ یہ جو گندم کے ساتھ ہوا ہے کسانوں کی کمر انہوں نے توڑ کے رکھ دی ہے۔ کاکڑ سے سوال ہوا تو جواب آیا میرا منہ نہ کھلواؤ‘ تمہارے فارم 47 کی بات کروں گا منہ نہ چھپا سکو گے۔ میں نے ان انتخابات میں دیکھا تھا کہ لوگوں کو دبانے کے لیے وہ وہ ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جن کی نظیر ہماری تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن لوگ دبے نہیں اور ووٹ ڈالنے کے وقت انہوں نے وہی کیا جو ان کا دل کہتا تھا۔ یہ جیتی جاگتی قوم کی نشانیاں ہیں اور اس حوالے سے پاکستانی قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔
اور محترم وزیر قانون کا ردِعمل تو دیکھیں۔ جسٹس کیانی کے جواب میں اُکھڑی باتیں کرتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

بشکریہ: روزنامہ دنیا
‎@ayazamir

‏نہیں نہیں‘ قوم بے حس نہیں ہوئی
تحریر : ایاز امیر

ان نامساعد حالات میں بھی جہاں کہیں ممکن ہو‘ قوم اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہے۔ بے حسی کا الزام تب لگایا جائے اگر یہاں کے لوگ بالکل ہی دب جاتے اور اپنے دل کی بات ظاہر کرنے کی جرأت نہ کرتے۔ الیکشن آئے‘ دنیا جہاں کے کرتب آزمائے گئے لیکن قوم نے اپنی رائے کا ایسا اظہار کیا کہ جائزہ لینے والوں کے سر چکرا گئے۔ انہیں سمجھ نہ آئی کہ ہو کیا گیا ہے۔ مشکل حالات میں مزاحمت کے طریقے بدل جاتے ہیں۔ جب جلسے جلوس ہو سکتے تھے تو عوام ان میں آتے تھے۔ سختیاں ہونے لگیں تو اظہارِ رائے کے دیگر طریقے اپنائے جانے لگے۔ لوگ پہلے بھی سوشل میڈیا استعمال کرتے تھے لیکن حالات خراب ہوئے تو سوشل میڈیا کو میدانِ مزاحمت بنا دیا گیا۔ وہ بھی اس طریقے سے کہ جائزہ لینے والوں کے سر پھر چکرا گئے۔ اب تک بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اس سوشل میڈیا کی مصیبت کا کیا جائے۔
عدلیہ کا جو کردار سامنے آ رہا ہے وہ دوسرا دردِ سر بنا ہوا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ جج صاحبان کے خط کا مسئلہ ابھی لٹکا ہوا ہے اور کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ رہا۔ ہم میں سے کون توقع کر سکتا تھا کہ جج اس انداز سے بول پڑیں گے لیکن انہوں نے ایسا کیا۔ جسٹس بابر ستار کے خلاف ایک پرلے درجے کی مہم چلانے کی کوشش نہیں کی گئی؟ لیکن کیا وہ دب گئے؟ کیا وہ منتوں ترلوں پہ آ گئے؟ سپریم کورٹ میں دیکھ لیجئے‘ کھلی عدالت میں جسٹس اطہر من اللہ نے کیسی کیسی باتیں کر ڈالیں۔ کیا یہ باتیں اچھی لگی ہوں گی؟ سمجھا تو یہ جا رہا تھا کہ عدلیہ سے ایسی آوازیں نہیں اٹھیں گی‘ سب کچھ ٹھیک کر لیا گیا ہے۔ لیکن جن میں ہمت ہے بول رہے ہیں اور اگلے دانت پیس رہے ہوں گے کہ ایسے جج صاحبان کا کیا کِیا جائے۔ اور اب یہ جو کسی کی بازیابی کا کیس اسلام آباد ہائیکور ٹ میں لگا ہوا ہے‘ رات گئے اس کیس کے احوال پڑھ رہا تھا تو دل کیا کہ بستر سے اٹھوں اور جج صاحب کو سیلوٹ ماروں۔ انہوں نے کوئی غلط بات تو نہیں کی‘ سچ بول رہے تھے لیکن یہی ان کا قصور بنتا ہے کیونکہ سب سے ناپسندیدہ چیز آج کل سچ بولنا ہے اور جسٹس کیانی کچھ زیادہ ہی سچ بول رہے ہیں۔ انہوں نے جو بنیادی بات کی کہ کسی کی بازیابی کی نوبت آنی ہی نہیں چاہیے‘ اس سے کوئی انکار کیا جا سکتا ہے؟ اور وہ کہہ رہے ہیں کہ جواب دیں‘ لکھ کر دیں اور یہی تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔ تکلیف نہیں غصہ اس بات پر آ رہا ہے کہ ایسی باتیں کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ پہلے تو ایسا نہ ہوتا تھا‘ ہمارا رعب چلتا تھا‘ اب کیوں نہیں اس انداز سے چل رہا؟
جس قسم کے حالات یہاں رہے ہیں اور اب بھی ہیں‘ اس میں مایوسی پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ انسان جب اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے‘ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ زیادتی ہو رہی ہے لیکن اس کا کچھ کیا نہیں جا سکتا تو بے بسی کے عالم میں مایوس ہو جاتا ہے۔ اور یہ کہتا ہے کہ یہاں کچھ ممکن نہیں‘ یہاں کچھ نہیں ہو سکتا‘ ہمارا معاشرہ لاعلاج ہے‘ ہم لوگ ہی ایسے ہیں کہ ہم پر زیادتیاں ہوتی رہیں اور ہم چوں چراں کیے بغیر انہیں برداشت کرتے رہیں۔ لیکن جب لاہور کی کسی جیل سے خواتین عدالت میں پیشیوں کے لیے لائی جاتی ہیں اورکچھ پروا کیے بغیر انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتی ہیں تو مایوسی کے سائے بکھر جاتے ہیں۔ دل میں ہمت پیدا ہوتی ہے کہ اگر ان نہتی خواتین کا یہ حوصلہ ہے تو اوروں کو بھی کچھ حوصلہ لینا چاہیے۔ اور پھر جب جسٹس کیانی جیسے جج انصاف کے تقاضوں کے بیچ میں رہ کر حق اور سچ کی بات کرتے ہیں تو انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ نہیں‘ یہ مری ہوئی قوم نہیں ہے‘ اس کے وجود میں دھڑکتا ہوا دل اب بھی موجود ہے۔ کیانی نام سے یاد آیا کہ جسے تمام حریت پسند پاکستانی ایک دلیر جج مانتے ہیں‘ جسٹس محمد رستم کیانی‘ وہ بھی تو کیانی تھے۔ چلیں اچھی بات ہے ایک اور کیانی اپنے نامور پیشرو کے راستے پر چل رہا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ اس دیس میں ایسے لوگوں کی کمی ہے۔ کیانی تو اور بھی بہت ہیں لیکن رستم کیانی اور محسن کیانی کچھ اور بھی ہونے چاہئیں۔
مسئلہ ہمارا یہاں یہ بھی ہے کہ بڑی کرسیوں پر چھوٹے لوگ بیٹھ جاتے ہیں۔ سوچ کی جو وسعت اورگہرائی حکمرانی کے لیے ہونی چاہیے‘ ایسے لوگوں میں نہیں پائی جاتی۔ ویسے ہی ملک مسائل زدہ ہو اور پھر ایسے لوگ بڑی پوزیشنوں پر بیٹھے ہوں تو حالات مزید خراب ہونے کی طرف جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ پوری کی پوری قوم ہار اور شکست مان جائے۔ 1940ء میں فرانس کے ساتھ یہی ہوا تھا۔ تاریخ میں کتنا اونچا نام فرانس کا ہے لیکن جرمنی نے حملہ کیا‘ فرانسیسی فوج تو ناکارہ ثابت ہوئی مگر بحیثیت قوم بھی فرانس ہمت ہار گیا۔ نازی جرمنی کے سامنے ان سے کھڑا نہ ہوا گیا۔ اس تناظر میں دیکھیں توکتنی حوصلہ افزا بات ہے کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستانی قوم میں زندگی کی رمق موجودہے۔ بہت کچھ ہونے کے باوجود لوگ ہمت نہیں ہارے اور یہی کیفیت حالات دیکھنے والوں کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے۔ کیونکہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کیا کریں۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان حالات پہ قابو کیسے پائیں۔
جلسے جلوس کا موسم آیا تو وہ بھی ہو جائیں گے لیکن اس وقت لوگ وہ کر رہے ہیں جو کر سکتے ہیں۔ کسی محفل میں جائیں تو دنگ رہ جانا پڑتا ہے کیونکہ وہاں ایسی ایسی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ پہلے تو لوگ کچھ احتیاط برتتے تھے‘ اِدھر ادھر دیکھ کر بات کرتے تھے لیکن اب تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حجاب کوئی رہا نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے ایسے تمسخر اڑائے جاتے ہیں کہ سوائے الامان الحفیظ کہنے کے انسان اور کچھ کہہ نہیں سکتا۔ پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ہے لیکن یہاں بخار سوشل میڈیا کی وجہ سے ہے۔ اونچی سطح کی میٹنگوں میں موضوع کیا ہوتا ہے؟ سوشل میڈیا۔ سبحان اللہ! اور ان کو دیکھیں جو ہمارے فارم 47 کے پنجاب کے حکمران ہیں‘ ان کی پولس کی وردیوں کی تو داد دینی پڑتی ہے کیونکہ سلائی بہت عمدہ ہوتی ہے لیکن ان کی ترجیحات تو دیکھیں۔ یہ کون سا ہتکِ عزت والا قانون انہوں نے پاس کروایا ہے؟ ان سے کوئی پوچھے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے کام چلے گا؟ خلقِ خدا کی زبانیں بند ہو جائیں گی؟ لوگ جو آپ کا تمسخر اڑاتے ہیں‘ فارم 47 کی نسبت سے جو پھبتیاں کَسی جاتی ہیں‘ کیا ایسے مضحکہ خیز قوانین کے بننے سے یہ سلسلے رک جائیں گے؟ یہ لوگ کس دنیا میں رہ رہے ہیں؟ انہیں کچھ سمجھ نہیں کہ عوام کا موڈ کیا ہے اور حالات کس نہج پہ پہنچے ہوئے ہیں؟
لیکن کوئی بات نہیں‘ اسلام آباد ہائیکورٹ کو دیکھ کر کچھ حوصلہ سا پیدا ہوتا ہے۔ اور دل گواہی دیتا ہے کہ حالات اتنے بھی مایوس کن نہیں کہ جتنے نظر آتے ہیں۔ مہنگائی کتنی ہے؟ معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے لیکن پھر بھی لوگوں کی نظروں میں ایک بیداری ہے۔ یہ جو گندم کے ساتھ ہوا ہے کسانوں کی کمر انہوں نے توڑ کے رکھ دی ہے۔ کاکڑ سے سوال ہوا تو جواب آیا میرا منہ نہ کھلواؤ‘ تمہارے فارم 47 کی بات کروں گا منہ نہ چھپا سکو گے۔ میں نے ان انتخابات میں دیکھا تھا کہ لوگوں کو دبانے کے لیے وہ وہ ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جن کی نظیر ہماری تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن لوگ دبے نہیں اور ووٹ ڈالنے کے وقت انہوں نے وہی کیا جو ان کا دل کہتا تھا۔ یہ جیتی جاگتی قوم کی نشانیاں ہیں اور اس حوالے سے پاکستانی قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔
اور محترم وزیر قانون کا ردِعمل تو دیکھیں۔ جسٹس کیانی کے جواب میں اُکھڑی باتیں کرتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

بشکریہ: روزنامہ دنیا
‎@ayazamir

‏نہیں نہیں‘ قوم بے حس نہیں ہوئی
تحریر : ایاز امیر

ان نامساعد حالات میں بھی جہاں کہیں ممکن ہو‘ قوم اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہے۔ بے حسی کا الزام تب لگایا جائے اگر یہاں کے لوگ بالکل ہی دب جاتے اور اپنے دل کی بات ظاہر کرنے کی جرأت نہ کرتے۔ الیکشن آئے‘ دنیا جہاں کے کرتب آزمائے گئے لیکن قوم نے اپنی رائے کا ایسا اظہار کیا کہ جائزہ لینے والوں کے سر چکرا گئے۔ انہیں سمجھ نہ آئی کہ ہو کیا گیا ہے۔ مشکل حالات میں مزاحمت کے طریقے بدل جاتے ہیں۔ جب جلسے جلوس ہو سکتے تھے تو عوام ان میں آتے تھے۔ سختیاں ہونے لگیں تو اظہارِ رائے کے دیگر طریقے اپنائے جانے لگے۔ لوگ پہلے بھی سوشل میڈیا استعمال کرتے تھے لیکن حالات خراب ہوئے تو سوشل میڈیا کو میدانِ مزاحمت بنا دیا گیا۔ وہ بھی اس طریقے سے کہ جائزہ لینے والوں کے سر پھر چکرا گئے۔ اب تک بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ اس سوشل میڈیا کی مصیبت کا کیا جائے۔
عدلیہ کا جو کردار سامنے آ رہا ہے وہ دوسرا دردِ سر بنا ہوا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ جج صاحبان کے خط کا مسئلہ ابھی لٹکا ہوا ہے اور کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ رہا۔ ہم میں سے کون توقع کر سکتا تھا کہ جج اس انداز سے بول پڑیں گے لیکن انہوں نے ایسا کیا۔ جسٹس بابر ستار کے خلاف ایک پرلے درجے کی مہم چلانے کی کوشش نہیں کی گئی؟ لیکن کیا وہ دب گئے؟ کیا وہ منتوں ترلوں پہ آ گئے؟ سپریم کورٹ میں دیکھ لیجئے‘ کھلی عدالت میں جسٹس اطہر من اللہ نے کیسی کیسی باتیں کر ڈالیں۔ کیا یہ باتیں اچھی لگی ہوں گی؟ سمجھا تو یہ جا رہا تھا کہ عدلیہ سے ایسی آوازیں نہیں اٹھیں گی‘ سب کچھ ٹھیک کر لیا گیا ہے۔ لیکن جن میں ہمت ہے بول رہے ہیں اور اگلے دانت پیس رہے ہوں گے کہ ایسے جج صاحبان کا کیا کِیا جائے۔ اور اب یہ جو کسی کی بازیابی کا کیس اسلام آباد ہائیکور ٹ میں لگا ہوا ہے‘ رات گئے اس کیس کے احوال پڑھ رہا تھا تو دل کیا کہ بستر سے اٹھوں اور جج صاحب کو سیلوٹ ماروں۔ انہوں نے کوئی غلط بات تو نہیں کی‘ سچ بول رہے تھے لیکن یہی ان کا قصور بنتا ہے کیونکہ سب سے ناپسندیدہ چیز آج کل سچ بولنا ہے اور جسٹس کیانی کچھ زیادہ ہی سچ بول رہے ہیں۔ انہوں نے جو بنیادی بات کی کہ کسی کی بازیابی کی نوبت آنی ہی نہیں چاہیے‘ اس سے کوئی انکار کیا جا سکتا ہے؟ اور وہ کہہ رہے ہیں کہ جواب دیں‘ لکھ کر دیں اور یہی تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔ تکلیف نہیں غصہ اس بات پر آ رہا ہے کہ ایسی باتیں کرنے کی جرأت کیسے ہوئی؟ پہلے تو ایسا نہ ہوتا تھا‘ ہمارا رعب چلتا تھا‘ اب کیوں نہیں اس انداز سے چل رہا؟
جس قسم کے حالات یہاں رہے ہیں اور اب بھی ہیں‘ اس میں مایوسی پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔ انسان جب اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے‘ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ زیادتی ہو رہی ہے لیکن اس کا کچھ کیا نہیں جا سکتا تو بے بسی کے عالم میں مایوس ہو جاتا ہے۔ اور یہ کہتا ہے کہ یہاں کچھ ممکن نہیں‘ یہاں کچھ نہیں ہو سکتا‘ ہمارا معاشرہ لاعلاج ہے‘ ہم لوگ ہی ایسے ہیں کہ ہم پر زیادتیاں ہوتی رہیں اور ہم چوں چراں کیے بغیر انہیں برداشت کرتے رہیں۔ لیکن جب لاہور کی کسی جیل سے خواتین عدالت میں پیشیوں کے لیے لائی جاتی ہیں اورکچھ پروا کیے بغیر انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتی ہیں تو مایوسی کے سائے بکھر جاتے ہیں۔ دل میں ہمت پیدا ہوتی ہے کہ اگر ان نہتی خواتین کا یہ حوصلہ ہے تو اوروں کو بھی کچھ حوصلہ لینا چاہیے۔ اور پھر جب جسٹس کیانی جیسے جج انصاف کے تقاضوں کے بیچ میں رہ کر حق اور سچ کی بات کرتے ہیں تو انسان بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ نہیں‘ یہ مری ہوئی قوم نہیں ہے‘ اس کے وجود میں دھڑکتا ہوا دل اب بھی موجود ہے۔ کیانی نام سے یاد آیا کہ جسے تمام حریت پسند پاکستانی ایک دلیر جج مانتے ہیں‘ جسٹس محمد رستم کیانی‘ وہ بھی تو کیانی تھے۔ چلیں اچھی بات ہے ایک اور کیانی اپنے نامور پیشرو کے راستے پر چل رہا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہی ہے کہ اس دیس میں ایسے لوگوں کی کمی ہے۔ کیانی تو اور بھی بہت ہیں لیکن رستم کیانی اور محسن کیانی کچھ اور بھی ہونے چاہئیں۔
مسئلہ ہمارا یہاں یہ بھی ہے کہ بڑی کرسیوں پر چھوٹے لوگ بیٹھ جاتے ہیں۔ سوچ کی جو وسعت اورگہرائی حکمرانی کے لیے ہونی چاہیے‘ ایسے لوگوں میں نہیں پائی جاتی۔ ویسے ہی ملک مسائل زدہ ہو اور پھر ایسے لوگ بڑی پوزیشنوں پر بیٹھے ہوں تو حالات مزید خراب ہونے کی طرف جاتے ہیں۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ پوری کی پوری قوم ہار اور شکست مان جائے۔ 1940ء میں فرانس کے ساتھ یہی ہوا تھا۔ تاریخ میں کتنا اونچا نام فرانس کا ہے لیکن جرمنی نے حملہ کیا‘ فرانسیسی فوج تو ناکارہ ثابت ہوئی مگر بحیثیت قوم بھی فرانس ہمت ہار گیا۔ نازی جرمنی کے سامنے ان سے کھڑا نہ ہوا گیا۔ اس تناظر میں دیکھیں توکتنی حوصلہ افزا بات ہے کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستانی قوم میں زندگی کی رمق موجودہے۔ بہت کچھ ہونے کے باوجود لوگ ہمت نہیں ہارے اور یہی کیفیت حالات دیکھنے والوں کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے۔ کیونکہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کیا کریں۔ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان حالات پہ قابو کیسے پائیں۔
جلسے جلوس کا موسم آیا تو وہ بھی ہو جائیں گے لیکن اس وقت لوگ وہ کر رہے ہیں جو کر سکتے ہیں۔ کسی محفل میں جائیں تو دنگ رہ جانا پڑتا ہے کیونکہ وہاں ایسی ایسی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ پہلے تو لوگ کچھ احتیاط برتتے تھے‘ اِدھر ادھر دیکھ کر بات کرتے تھے لیکن اب تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے حجاب کوئی رہا نہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے ایسے تمسخر اڑائے جاتے ہیں کہ سوائے الامان الحفیظ کہنے کے انسان اور کچھ کہہ نہیں سکتا۔ پاکستان مسائل میں گھرا ہوا ہے لیکن یہاں بخار سوشل میڈیا کی وجہ سے ہے۔ اونچی سطح کی میٹنگوں میں موضوع کیا ہوتا ہے؟ سوشل میڈیا۔ سبحان اللہ! اور ان کو دیکھیں جو ہمارے فارم 47 کے پنجاب کے حکمران ہیں‘ ان کی پولس کی وردیوں کی تو داد دینی پڑتی ہے کیونکہ سلائی بہت عمدہ ہوتی ہے لیکن ان کی ترجیحات تو دیکھیں۔ یہ کون سا ہتکِ عزت والا قانون انہوں نے پاس کروایا ہے؟ ان سے کوئی پوچھے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے کام چلے گا؟ خلقِ خدا کی زبانیں بند ہو جائیں گی؟ لوگ جو آپ کا تمسخر اڑاتے ہیں‘ فارم 47 کی نسبت سے جو پھبتیاں کَسی جاتی ہیں‘ کیا ایسے مضحکہ خیز قوانین کے بننے سے یہ سلسلے رک جائیں گے؟ یہ لوگ کس دنیا میں رہ رہے ہیں؟ انہیں کچھ سمجھ نہیں کہ عوام کا موڈ کیا ہے اور حالات کس نہج پہ پہنچے ہوئے ہیں؟
لیکن کوئی بات نہیں‘ اسلام آباد ہائیکورٹ کو دیکھ کر کچھ حوصلہ سا پیدا ہوتا ہے۔ اور دل گواہی دیتا ہے کہ حالات اتنے بھی مایوس کن نہیں کہ جتنے نظر آتے ہیں۔ مہنگائی کتنی ہے؟ معیشت کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے لیکن پھر بھی لوگوں کی نظروں میں ایک بیداری ہے۔ یہ جو گندم کے ساتھ ہوا ہے کسانوں کی کمر انہوں نے توڑ کے رکھ دی ہے۔ کاکڑ سے سوال ہوا تو جواب آیا میرا منہ نہ کھلواؤ‘ تمہارے فارم 47 کی بات کروں گا منہ نہ چھپا سکو گے۔ میں نے ان انتخابات میں دیکھا تھا کہ لوگوں کو دبانے کے لیے وہ وہ ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جن کی نظیر ہماری تاریخ میں نہیں ملتی۔ لیکن لوگ دبے نہیں اور ووٹ ڈالنے کے وقت انہوں نے وہی کیا جو ان کا دل کہتا تھا۔ یہ جیتی جاگتی قوم کی نشانیاں ہیں اور اس حوالے سے پاکستانی قوم مبارکباد کی مستحق ہے۔
اور محترم وزیر قانون کا ردِعمل تو دیکھیں۔ جسٹس کیانی کے جواب میں اُکھڑی باتیں کرتے ہیں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

بشکریہ: روزنامہ دنیا
‎@ayazamir

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *