اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف رہنما شاہ محمود قریشی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے ان کی سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عدالت کی جانب سے سوموار کے دن مختصر فیصلہ سنایا گیا جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات ذوالقرنین نے اس سال جنوری میں سائفر مقدمے میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو دس دس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سوموار کے دن اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے ان اپیلوں پر فیصلہ سنایا تو عمران خان کی دونوں بہنوں کے علاوہ شاہ محمود قریشی کی اہلیہ اور ان کی بیٹیاں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے متعدد رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے اپیلوں کو منظور کرنے کے باوجود عمران خان اور شاہ محمود قریشی جیل سے رہا نہیں ہو سکیں گے۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سات سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے جبکہ پنجاب پولیس نے 9 مئی کے ایک مقدمے میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی گرفتاری ڈال رکھی ہے۔ پولیس نے متعقلہ عدالت سے شاہ محمود قریشی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا تھا تاہم عدالت نے ملزم کو لاہور لیکر جانے کی پولیس کی استدعا مسترد کر دی تھی۔

عدت کے دوران نکاح کا مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی طرف سے مقدمہ کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے سے متعلق دائر درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکا کی عدالت میں بھیج دیا ہے اور قانونی ماہرین کے مطابق مذکورہ جج از سر نو اس مقدمے کی سماعت کریں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کے مقدمے میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور بشری بی بی کی ضمانتیں منظور کر رکھی ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے توشہ خانہ سے تحائف حاصل کرنے کے باوجود انھیں اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر درج کیے گئے مقدمے میں بھی ایڈیشنل سیشن جج کی طرف سے دی گئی تین سال کی سزاکے فیصلے کو بھی اسلام آباد ہائیکورٹ معطل کر چکی ہے۔

اسی فیصلے کے بعد عمران خان کو گزشتہ برس 5 اگست کو لاہور سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کیا گیا تھا۔

سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف 180 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ تاہم اسلام آباد میں درج ہونے والے دس مقدمات میں متعقلہ عدالتیں سابق وزیر اعظم کو بری کر چکی ہیں جبکہ توڑ پھوڑ کے ایک مقدمے میں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کو 28 جون کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے رکھا ہے

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *