ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کہتی ہیں کہ ارشد شریف کی ہلاکت سے متعلق کینیا کی عدالت کا فیصلہ ان کے لیے ریلیف کے ساتھ ساتھ حیرانی کا باعث ہے کیونکہ پاکستان میں بھی اب تک انھیں انصاف نہیں ملا ہے۔

بی بی سی کو دیے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے ملک میں بھی اپنے شوہر کے لیے انصاف حاصل نہیں کر پا رہی۔ میرے شوہر کو پاکستان میں دھمکیاں ملی تھیں۔ ان پر غداری کے جعلی مقدمات تھے کیونکہ وہ بلا خوف صحافت کرتے تھے اور اشرافیہ کی کرپشن کو بے نقاب کرتے تھے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ارشد شریف نے اپنی زندگی بچانے کے لیے کینیا میں عارضی طور پر پناہ لی تھی۔ وہ بتاتی ہیں کہ ارشد شریف کئی ملکوں کے ویزا حاصل نہیں کر پا رہے تھے لہذا انھوں نے کینیا آمد پر ویزا حاصل کیا اور پھر وہ کینیا میں چھپ کر زندگی گزار رہے تھے۔

جویریہ نے کہا کہ ’یہ میرے لیے دردناک تھا کہ کینیا انھیں تحفظ دینے میں ناکام رہا اور انھیں کینیا کی پولیس نے قتل کیا۔‘

’میرا خیال ہے کہ انھیں (پولیس اہلکاروں کو) اس قتل کے لیے پاکستان سے لوگوں نے ہائیر کیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے لیے یہ حیران کن ہے اور میں کینیا کی عدلیہ کی شکر گزار ہوں کہ انھوں نے میری بات سنی اور مجھے انصاف دیا۔‘

عدالت کی جانب سے معاوضے کے اعلان پر ارشد شریف کی اہلیہ نے کہا کہ ’میں نے اپنے لیے یا اپنی فیملی کے لیے کسی معاوضے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ میرے لیے اہم یہ ہے کہ تمام ملوث پولیس اہلکاروں کی سزا دی جائے اور کیس کی صحیح طریقے سے تحقیقات کی جائیں اور سزائیں دی جائیں۔‘

جویریہ نے کہا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی فورمز سے رابطے کریں گی

By Admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *